لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

عورتوں کی جماعت کا حکم از کمال احمد علیمی نظامی

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

عورتوں کی جماعت کا حکم از کمال احمد علیمی نظامی

السلام علیکم ورحمتہ اللہْ علماء کرام کی بارگاہ میں میرا سوال ہے کہ کیا عورت جماعت کروا سکتی ہے یا نہیں اگر نہی کرواسکتی تو وجہ اگر کرواسکتی ہے تو کس کس کی اور کہاں پر جماعت کرواۓ گی۔۔۔۔۔مکمل مفصل جواب عنایت فرمائیں ۔ محمد ساجد قادری۔۔ جموں و کشمیر الجواب بعون الملک الوھاب عورتوں کی جماعت اور ان کی امامت مکروہ تحریمی ہے چاہے وہ فرض نماز ہو یا غیر فرض، مسجد میں ہو یا گھر میں. اعلاءالسنن میں ہے : عن علي بن أبي طالب رضي اللّٰه عنه أنه قال: لا تؤم المرأة. (إعلاء السنن ۴؍۲۲۷ دار الکتب العلمیة بیروت) "الفتاوی الھندیۃ "میں ہے: ویکرہ امامۃ المرءۃ للنساء فی الصلوت کلھا من الفرائض والنوافل. (جلد اول،، صفحہ ۵۸) فتاوی شامی میں ہے: ” ویکره تحریماً جماعة النساء ولو في التراویح. فإن فعلن تقف الإمام وسطهن فلو قدمت أثمت”.(ج ٢ /٣٠٥) "تبیین الحقائق ” میں ہے: کرہ جماعۃ النساء وحدھن لقولہ علیہ السلام صلاۃ المرءۃ فی بیتھاافضل من صلاتھا فی حجرتھا وصلاتھا فی مخدعھا افضل من صلاتھا فی بیتھا”(جلد اول،صفحہ ۸۴۳) ہاں! اگر گھر میں امامت کرنے والا مرد ہو اور شریک جماعت عورتوں میں کوئی مرد بھی ہو یا امام کی بیوی یا اس کے محارم میں سے کوئی ہو تو اس طرح عورتیں بھی شریکِ جماعت ہوسکتی ہیں، لیکن عورتوں کوجماعت کے لیے باہر جانا جائز نہیں ہے۔ در مختار میں ہے: "وَيُكْرَهُ حُضُورُهُنَّ الْجَمَاعَةَ) وَلَوْ لِجُمُعَةٍ وَعِيدٍ وَوَعْظٍ (مُطْلَقًا) وَلَوْ عَجُوزًا لَيْلًا (عَلَى الْمَذْهَبِ) الْمُفْتَى بِهِ لِفَسَادِ الزَّمَانِ، وَاسْتَثْنَى الْكَمَالُ بَحْثًا الْعَجَائِزَ وَالْمُتَفَانِيَةَ (كَمَا تُكْرَهُ إمَامَةُ الرَّجُلِ لَهُنَّ فِي بَيْتٍ لَيْسَ مَعَهُنَّ رَجُلٌ غَيْرُهُ وَلَا مَحْرَمٌ مِنْهُ) كَأُخْتِهِ (أَوْ زَوْجَتِهِ أَوْ أَمَتِهِ، أَمَّا إذَا كَانَ مَعَهُنَّ وَاحِدٌ مِمَّنْ ذُكِرَ أَوْ أَمَّهُنَّ فِي الْمَسْجِدِ لَا يُكْرَهُ بَحْرٌ۔” (در مختار، کتاب الصلاة، باب الامامة) بہار شریعت میں ہے: "جس گھر میں عورتیں ہی عورتیں ہوں ، اس میں مرد کو ان کی اِمامت ناجائز ہے، ہاں اگر ان عورتوں میں اس کی نسبی محارم ہوں یا بی بی یا وہاں کوئی مرد بھی ہو، تو ناجائز نہیں۔” (بہار شریعت ح٣ص۵٨٨) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب کتبہ: کمال احمد علیمی نظامی دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی۔ ١٦ شعبان ١٤٤٣/ ٢٠ مارچ، ٢٠٢٢ الجواب صحیح محمد نظام الدین قادری مصباحی خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات