بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1389 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
عورتوں کو ہاتھ اور پیر کے بال چھیلنا کیسا ہے ؟
مفتی محمد صدام حسین برکاتی میرانی فیضی۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ عورتوں کے ہاتھ اور پیر کے بال بنانا جائز ہے یا نہیں۔؟ المستفتیہ: عالمہ حسن آرا کٹواں بنارس یوپی انڈیا۔ الجواب بعون الملک الوھاب جائز ہے ۔ بہار شریعت میں ہے: "ہاتھ، پاؤں ، پیٹ پر سے بال دور کرسکتے ہیں“ اھ (ج٣، ص٥٨٥ ، حصہ ١٦، مکتبۃ المدینہ کراچی) واللہ تعالیٰ ورسولہ صلی ﷲ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم اعلم بالصواب۔ کتبہ :گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔ خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ