لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

عورتوں کو خوشبو لگا کر گھر سے باہر نکلنا کیسا ہے ؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

عورتوں کو خوشبو (پرفیوم, باڈی سپرے, عطر وغیرہ) لگا کر گھر سے باہر نکلنا کیسا ہے ؟

الجوابــــــــــــــــــــــ عورت کو گھر سے نکلتے ہوئے ایسی خوشبو لگانا جائز نہیں ہے جو بدن سے اٹھ کر غیر مردوں تک پہنچ سکتی ہو اور عورت اپنے گھر کی چار دیواری میں جہاں فقط شوہر یا محارم ہوں وہاں ہر طرح کی خوشبو استعمال کرسکتی ہے, مگر یہ احتیاط لازمی ہے کہ دیور ، جیٹھ اور دیگر غیر محارم تک خوشبو نہ پہنچے. اور اگر گھر میں ایسی خوشبو لگائی ہو اور ایمرجنسی باہر نکلنا پڑ جائے تو کپڑے بدل لے تاکہ غیر محرموں تک اس کی خوشبو نہ پہنچے ۔ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "الا وطيب الرجال ريح لا لون له الا وطيب النساء لون لا ريح له” یعنی سنو ! مردوں کی خوشبو وہ ہے جس میں خوشبو ہو رنگ نہ ہو ۔ سنو ! اور عورتوں کی خوشبو وہ ہے جس میں رنگ ہو خوشبو نہ ہو ۔ امام سعيد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : "أره قال إنما حملوا قوله فى طيب النساء على انها اذا خرجت فاما اذا كانت عند زوجها فلتطيب بما شاءت " یعنی میرا خیال ہے حضرت قتادہ نے کہا علماء نے عورتوں کے سلسلہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کو اس صورت پر محمول کیا ہے جب وہ باہر نکلیں لیکن جب وہ اپنے خاوند کے پاس ہوں تو وہ جیسی خوشبو چاہیں لگائیں ۔ ( سنن ابی داود شریف کتاب اللباس باب من کرھه ، جلد 4 صفحہ 68 حدیث : 4048 ) اور باہر نکلنے پر جو عورت ایسی خوشبو لگاتی ہے کہ غیر مردوں کی توجہ کا باعث بنے تو ایسی عورت کے بارے میں سخت وعید موجود ہے ۔ جیسا کہ حضرت سیدنا ابو موسی اشعری سے روایت ہے کہ : ” جب کوئی عورت خوشبو لگا کر لوگوں میں نکلتی ہے تاکہ اس کہ خوشبو پائی جائے تو یہ عورت زانیہ ہے ” ۔ (سنن نسائی جلد 8 صفحہ 153 ) واللہ اعلم ورسولہ اعلم عزوجل وصلی اللہ علیہ وسلم کتبــــــــــہ : مفتی ابو اسید عبیدرضامدنی

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات