بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1624 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
مسجد کی چھت پر عورتوں کااجتماع کرنا اور اس میں عورتوں کا جانا جائز نہیں
مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔ کیا فرماتے ہیں علماء دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ مسجد کی چھت پر عورتوں کا اجتماع کرنا کیسا ہے اور محلے کی عورتوں کا اجتماع میں آنا کیسا ہے بینوا توجروا المستفتی محمد عابد رضا حشمتی خطیب وامام گلشن مدینہ مسجد جوگیشوری ویسٹ ممبئی انڈیا۔ الجواب-بعون الملک الوھاب- عورتوں کو مسجد جانا منع ہے اور مسجد کی چھت پر بے ضرورت شرعیہ چھڑھنا مطلقاً مکروہ ہے نماز پڑھنے کے لئے بھی چڑھنے کی اجازت نہیں خواہ سخت گرمی ہو مگر جب مسجد نمازیوں پر تنگ ہوجائے تو چھت پر نماز ادا کرنے کی اجازت ہے۔ حضور اعلی حضرت رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں:” عورتوں کا مسجد میں جانا خود ممنوع ہے ” اھ (فتاوی رضویہ مترجم جلد7 صفحہ 233 کتاب الصلاۃ ، باب الجماعۃ ، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور ) فتاوی ھندیۃ میں ہے: ” الصعود علی سطح کل مسجد مکروہ ولھذا اذا اشتد الحریکرہ ان یصلوا بالجماعۃ فوقہ الااذاضاق المسجد فحینئذ لایکرہ الصعود علی سطحہ للضرورۃ ” اھ ( جلد5 صفحہ 395 کتاب الکراھیۃ ، باب آداب المسجد والقبلۃ والمصحف ، مطبوعہ دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان ) یعنی ہرمسجد کی چھت پرچڑھنا مکروہ ہے یہی وجہ ہے کہ جب گرمی سخت ہو تومسجد کے اوپر باجماعت نماز پڑھنا مکروہ ہے مگر جب مسجد نمازیوں کے لئے تنگ پڑگئی تو مجبورا چھت پر چڑھنا مکروہ نہیں حضور اعلی حضرت رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں: ” بے ضرورت شرعیہ مسجد کی چھت پرچڑھنامکروہ ہے یہاں تک کہ شدت گرمی بھی اس کے لئے عذرنہ مانی گئی ” اھ ( فتاوی رضویہ مترجم جلد7 صفحہ 233 کتاب الصلاۃ ، باب الجماعۃ ، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور ) لہذا صورت مستفسرہ میں عورتوں کا مسجد کی چھت پر اجتماع کرنا اور اس اجتماع میں جانا دونوں ناجائز ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ کتبہ گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔ خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔ 9شعبان المعظم 1443ھ مطابق
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ