لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

عورتوں کا اپنے بالوں میں کلپ لگانا کیسا ہے؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

عورتوں کا اپنے بالوں میں کلپ لگانا کیسا ہے؟

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و ملت کے اس مسئلہ میں کہ عورتوں کو اپنے بالوں میں کلپ لگانا کیسا ہے؟ بینوا و توجروا ۔ الجوابـــــــــــــــــــــــــ سونے چاندی کے علاوہ دوسری دھاتوں کے زیورات مثلا لوہا تانبا پیتل رانگا جستہ وغیرہ عورتوں کے لئے بھی ناجائز اور حرام ہے. درمختار میں ہے ” ولا یتختم الا بالفضۃ لحصول الاستغناء بھا فیحرم بغیرھا کحجر وذھب وحدید وصفر ورصاص وزجاج وغیرھا ١ھ ملخصا. اور کلپ جس کو عورتیں اپنے بالوں میں لگاتی ہیں اس کا استعمال جائز ہے کہ کلپ خاص زیور نہیں اس کو صرف زینت کے لئے نہیں لگایا جاتا بلکہ اس کا مقصد بالوں کو یکجا کرنا اور یکجا رکھنا ہے ۔ پھر اسے بالوں میں لگانا لبس یعنی پہننا نہیں ہے اور لبس ہی ممنوع ہے. فتاوی امجدیہ میں ہے” سونے چاندی کے بٹن اس وجہ سے جائز ہیں کہ یہ ملبوس نہیں ہیں بلکہ توابع لباس سے ہیں. لہذا دوسری دھات کے بٹن بھی اسی علت مشترکہ سے جائز ہیں کہ دوسری دھاتوں کا پہننا منع ہے بلکہ ان کا حکم سونے چاندی سے اخف ہے کہ سونے چاندی کا استعمال صرف ایک مخصوص صورت کے علاوہ مطلقا ناجائز ہے اور دوسری دھاتیں سوا پہننے کے ہر طرح استعمال کرسکتے ہیں. ان کے برتنوں میں کھا پی سکتے ہیں سرما دانی سلائی تیل وغیرہ کی پیالیاں قلم دوات وغیرہ تمام اشیاء کو استعمال کرسکتے ہیں (جلد چہارم صفحہ 433) واللہ تعالی اعلم ۔ کتبہ : مفتی محمد شاہد رضا ہشامی الجواب صحیح :مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات