دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #247
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
ادھار خرید و فروخت پر نقد سے زیادہ قیمت لینا
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: August 12, 2026
0
12,921
سوال (Question):
کیا کسی چیز کو نقد پر کم اور ادھار یا قسطوں پر زیادہ قیمت میں بیچنا جائز ہے؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
جی ہاں، اگر سودا کرتے وقت مدت طے ہو جائے اور ایک قیمت حتمی طور پر مقرر کر لی جائے تو نقد کے مقابلے میں ادھار یا قسطوں پر زیادہ قیمت پر بیچنا جائز ہے۔ البتہ لیٹ ہونے پر جرمانہ لینا سود ہے۔ واللہ اعلم۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat