بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1942 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
عقیقہ میں کتنے جانور ذبح کرنا ضروری ہے ؟
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین درج ذیل مسئلہ کے بارے میں اگر کوئی شخص استطاعت نہ رکھتا ہو تو کہ اپنے لڑکے کے عقیقہ میں دو یا ایک بکرا ذبح کرے تو کیا ایک بکری ذبح کرکے عقیقہ کرسکتا ہے یا نہیں۔؟ جواب عنایت فرمائیں۔ سائل۔ محمد عابد علی نظامی اوراٹار مہراجگنج بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب بتوفیق الملک الوھاب صورت مسئولہ میں ایک بکری سے بھی عقیقہ ہو جائیگا۔ جیسا کہ صاحب بہار شریعت صدر الشریعہ بدر الطریقہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں کہ : لڑکے کے عقیقہ میں دوبکرے اور لڑکی میں ایک بکری ذبح کی جائے یعنی لڑکے میں نر جانور اور لڑکی میں مادہ مناسب ہے۔ اور لڑکے کے عقیقہ میں بکریاں اور لڑکی میں بکرا کیا جب بھی حرج نہیں۔ (بہار شریعت جلد سوم حصہ پانزدہم صفحہ ٣٥٧ مسئلہ نمبر ٧) پھر آگے تحریرفرماتے ہیں کہ لڑکے کے عقیقہ میں دوبکریوں کی جگہ ایک ہی بکری کسی نے کی تو یہ بھی جائز ہے ایک حدیث سے بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عقیقہ میں ایک مینڈھا ذبح ہوا ۔ ( بہار شریعت جلد سوم حصہ پانزدہم صفحہ ٣٥٧ مسئلہ نمبر ١٤) واللہ ورسولہ اعلم باالصواب، کتبـــــہ : مفتی منظور القادری خادم التدریس لدرجات العالیہ دارالعلوم معین الاسلام چھتونہ میگھولی کلاں مہراجگنج یوپی۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ