دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #210
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
جھوٹی قسم کھانے (یمینِ غموس) کا کفارہ اور گناہ
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: August 12, 2026
0
7,108
سوال (Question):
اگر کسی نے جان بوجھ کر کسی پچھلے واقعے پر جھوٹی قسم کھائی تو کیا کفارہ ہے؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
کسی ماضی کے واقعے پر جان بوجھ کر جھوٹی قسم کھانا یمین غموس کہلاتا ہے جو بہت بڑا کبیرہ گناہ ہے۔ اس کا کوئی مالی کفارہ نہیں اس پر سچے دل سے توبہ اور استغفار کرنا فرض ہے۔ واللہ اعلم۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat