بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-83 | تاریخ: 12 اگست 2026
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
عدت کے دوران عورت کا کسی دوسرے مرد سے نکاح کرنا قطعی حرام اور باطل ہے۔ اگر کسی نے لاعلمی یا جان بوجھ کر ایسا کیا، تو ان کا آپس میں رہنا زنا ہے۔ ان پر لازم ہے کہ فوراً علیحدگی اختیار کریں۔ عورت پہلے شوہر کی بقایا عدت پوری کرے گی، اس کے بعد نیا نکاح کرنا جائز ہو گا۔ واللہ اعلم۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ