دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #377
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
ڈراپ شپنگ (Dropshipping) کا کاروبار اور شرائط
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: August 12, 2026
0
10,363
سوال (Question):
کیا علی ایکسپریس یا ایمازون پر ڈراپ شپنگ کا کاروبار جائز ہے؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
عام ڈراپ شپنگ میں انسان وہ چیز آگے بیچتا ہے جس کا وہ مالک نہیں ہوتا اور نہ اس کے قبضے میں ہوتی ہے، جو کہ شرعاً ناجائز ہے۔ اس کو جائز کرنے کی دو صورتیں ہیں: 1) آپ خریدار کے نمائندے (Agent) بن کر مقررہ فیس پر کام کریں، یا 2) ‘بیعِ سلم’ (ایڈوانس پیمنٹ) کی شرائط پوری کر کے سودا کریں۔ واللہ اعلم۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat