لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

طلاق نامہ پر تین طلاق درج ہوا اور شوہر کہے میں نے ایک ہی دیا ہے تو؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

طلاق نامہ پر تین طلاق درج ہوا اور شوہر کہے میں نے ایک ہی دیا ہے تو؟

مسئولہ :- از عبد الشکور، گلاس کو ، برطانیہ۔ کیا فرماتے ہیں مفتیان دین و ملت اس مسئلہ میں کہ زید نے ایک ایسے طلاق نامہ پر دستخط کیا جس میں صریح لفظوں میں تین طلاق اپنی بیوی کو دینے کا اقرار موجود ہے۔ مگر زید کہتا ہے کہ میں نے اپنی بیوی کو صرف ایک طلاق دئیے ہیں اگرچہ طلاق نامہ پر تین طلاق درج ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ میں نے دستخط کرتے وقت طلاق نامہ کے مضمون کو قطعاً پڑھا نہیں تھا ۔ اگر مجھے معلوم ہوتا کہ مجھ سے کسی خارجی انتقام کی بنیاد پر تین طلاق لیے جا رہے ہیں تو میں ہرگز طلاق نامہ پر دستخط نہ کرتا۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ زید کی بیوی پر تین طلاق پڑیں یا ایک طلاق واقع ہوئی۔ بینوا توجروا۔ الجوابـــــــــــــــــــــــــــــ اعلی حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رضی اللہ تعالیٰ تحریر فرماتے ہیں :” بلاشبہ قاعدہ عامہ یہی ہے کہ جو شخص کوئی کاغذ لائے اور دوسرے سے اس پر دستخط یا مہر کرائے تو اگر وہ حرف بہ حرف پڑھ کر نہ سنائے گا تو حاصل مضمون ضرور بتائے گا یا وہ نہ بتائے تو یہ دستخط یا مہر کرنے والا پوچھ لے گا کہ اس میں کیا لکھا ہے ۔” (فتاویٰ رضویہ ج ۵ ص۷۲۱) حضرت نے اس قاعدہ کا عام ہونا ایک سو دس سال قبل تحریر فرمایا ہے اور اس تعلیمی ترقی کے زمانے میں تو اس قاعدہ پرسختی کے ساتھ عمل ہے۔ لہذا ظاہر یہی ہے کہ زید نے طلاق نامہ پڑھ کر یا اس کے مضمون سے آگاہ ہوکر اس پر دستخط کیا ہے اور اس کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہوگئیں کہ اب بغیر صحیح حلالہ وہ عورت زید کے لیے حلال نہیں ۔خدائے تعالی کا ارشاد ہے: فان طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره. ( پ۲ آیت ۲۳۰) لیکن اگر زید اس بات سے انکار کرتا ہے تو وہ مسجد کے ممبر پر دونوں ہاتھ رکھے اور اسی حال میں اس سے قسم اس طرح کھلائی جائے کہ میں اللہ تعالی کو سمیع و بصیر اور اس کے رسول سیدنا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حاضر ناظر جانتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے طلاق نامہ کو نہیں پڑھا اور نہ میں اس کے مضمون سے واقف تھا کہ اس میں تین طلاق لکھی ہیں میں نے صرف ایک طلاق کی تحریر سمجھ کر اس پر دستخط کیا ہے ۔ اگر میرا یہ بیان غلط ہو تو مجھ پر اللہ تعالی کا قہر و غضب ہوں اور مجھے کھوڑی و اندھا کر دے اگر وہ اس طرح کی قسم نہ کھائے تو اس سے تین طلاق کی تحریر جان کر اس پر دستخط کرنے کا اقرار کرا لیا جائے۔ اور اگر قسم کھالے تو اس کی بیوی پر صرف ایک طلاق کا حکم کیا جائے۔ اگر وہ جھوٹی قسم کھائے گا تو اس کا وبال اس پر ہوگا۔ اور اگر وہ مذکورہ طریقہ پر قسم نہ کھائے اور طلاق کے مضمون پر مطلع ہونے کا اقرار بھی نہ کرے تو اس کا سماجی بائیکاٹ کیا جائے۔ خدائے تعالی کا ارشاد ہے :” وإما ينسينك الشيطان فلا تقعد بعد الذكرى مع القوم الظالمين.” (پ ۷ ع۱٤) واللہ تعالیٰ اعلم۔ ماخوز : از فتاوی فقیہ ملت 

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات