دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #1628
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
طلاق شدہ حاملہ و غیرحاملہ عورت کی طلاق کی عدت کیا ہے ؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
5,011
سوال (Question):
طلاق شدہ حاملہ و غیرحاملہ عورت کی طلاق کی عدت کیا ہے ؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
طلاق شدہ حاملہ و غیرحاملہ عورت کی طلاق کی عدت کیا ہے ؟
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ : کیافرماتےہیں علمائےدین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ حاملہ و غیرحاملہ عورت کو طلاق دی ہو، اور جس کا شوہر فوت ہوجائے اس کی عدت، شرعی اعتبار سے کتنی مدت ہے؟ سائلہ بنت عبداللہ لاہور وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ الجـــــوابــــــــــــ بعون الملک الوھّاب ارشاد باری تعالیٰ ہے : وَالَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا یَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّ عَشْرًاۚ-فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَیْكُمْ فِیْمَا فَعَلْنَ فِیْۤ اَنْفُسِهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِؕ-وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ- (سورۂ بقرہ آیت نمبر(۲۳۴) ترجمہ: اور تم میں جو مرجائیں اور بی بیاں چھوڑیں وہ چار مہینے دس دن اپنے آپ کو روکے رہیں پھر جب اُن کی عدت پوری ہو جائے تو تم پر کچھ مؤاخذہ نہیں اُس کام میں جو عورتیں اپنے معاملہ میں شرع کے موافق کریں اور اللہ (عزوجل) کو تمھارے کاموں کی خبر ہے- اس آیت کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے : فوت شدہ کی بیوی کی عدت 4ماہ 10دن ہے، یہ اس صورت میں ہے جب شوہر کا انتقال چاند کی پہلی تاریخ کو ہوا ہو، ورنہ عورت 130دن پورے کرے گی : (تفسیرصراط الجنان جلد1صفحہ359) فتاویٰ رضویہ و بہار شریعت وغیرہا میں ہے : کہ موت کی عدت چار مہینے دس دن ہے یعنی دسویں رات بھی گزرلے بشر طیہ کہ نکاح صحیح ہو دخول ہوا ہو یا نہیں دونوں کا ایک حکم ہے اگرچہ شوہر نا بالغ ہو یا زوجہ نا بالغہ ہو، یوہیں اگر شوہر مسلمان تھا اور عورت کتابیہ تو اس کی بھی یہی عدت ہے مگر اس عدت میں شرط یہ ہے کہ عورت کو حمل نہ ہو، لیکن اگرعورت حاملہ ہو تواس کی عدت وضح حمل ہے.. طلاق کی عدت حیض والی کےلئے(3)حیض ہیں ۔ جو بعد طلاق شروع ہوکرختم ہوجائیں، اورجسےحیض ابھی نہیں آیا، یاحیض کی عمرگزر چکی، اس کےلئے(3)مہینے، اورحمل والی کےلئےوضح حمل عدت ہے.. ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَ الْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ ثَلٰثَةَ قُرُوْٓءٍ« ترجمہ اور طلاق والی عورتیں اپنی جانوں کو تین حیض تک روکے رکھیں۔} (سورۃ البقرہ،آیت،228) (بہار شریعت حصہ8صفحہ237تا238مکتبۃ المدینہ کراچی) (فتاویٰ رضویہ جلد13صفحہ294تا295- رضا فاؤنڈیشن لاہور) واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم ﷺ کتبــــــــــــــــــــــہ :ابورضا محمدعمران عطاری مدنی
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat