بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2375 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
ضرورت کا اعتراف کرنے والے کو زکوۃ دے سکتے ہیں؟
سوال : ضرورت کا اعتراف کرنے والے کو زکوۃ دے سکتے ہیں؟ دوا لینے کے لیے آنے والا ضرورت مند کہے کہ میں زکوۃ کا مستحق ہوں تو کیا اس کی بات پر یقین کر کے اس کو حقدار مان لیا جائے گا؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــــــ زکوۃ دینے والا دل میں اچھی طرح غور کرے اگر اس کا دل اس پر جمے کہ وہ سچا ہے تو اسے زکوۃ کا حقدار مان کر زکوۃ دے سکتا ہے ۔ عالمگیری وغیرہ میں ہے جس نے تحری کی یعنی سوچا اور دل میں یہ بات جمی کہ اس کو زکوۃ دے سکتے ہیں اور زکوۃ دے دیا بعد میں ظاہر ہوا کہ وہ مصارف زکوۃ ہے یا کچھ حال نہ کھلا تو ادا ہوگئی ۔ اور بعد میں معلوم ہوا کہ وہ غنی تھا یا اپنی اولاد تھی یا شوہر تھا جب بھی ادا ہوگئی ۔ اور یہ بھی تحریک کے حکم ہے کہ اس نے سوال کے اور اس نے اسے غنی نہ جان کر دے دیا یا وہ فقیروں کی جماعت میں انہی کا تھا اسے دے دیا تو پھر بھی زکوۃ ادا ہوگئی ۔ ( عالمگیری، در مختار، رد المحتار، بہار شریعت صفحہ 64، حصہ 5، مصرف زکوۃ) واللہ تعالی اعلم ۔ کتبـــــــــــہ :مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ