بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1805 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
صاحب ترتیب کی نماز فجر قضا ہوگئی اس نے امام کو نماز ظہر کے آخری رکعت میں پایا تو کیا کرے؟
سوال : کیا فرماتے ہیں مفتیان دین و ملت اس مسئلہ میں کہ صاحب ترتیب یعنی جس کے ذمہ کوئی فرض نماز باقی نہیں ہے. اتفاق سے فجر کی نماز قضا ہوگئی لیکن ظہر تک اس نے نہیں پڑھی اور مسجد میں اس وقت پہنچا جب کہ امام ظہر کی آخری رکعت میں تھا اگر وہ فجر کی قضا پڑھے تو جماعت چھوٹ جائے گی ایسی صورت میں وہ کیا کرے؟ بینوا و توجروا الجوابــــــــــــــــــــــــ صورت مسؤلہ میں صاحب ترتیب جس کی نماز قضا ہو گئی ہے اگرچہ مسجد میں اس وقت پہنچا جبکہ امام ظہر کی آخری رکعت میں تھا اس کے لیے حکم یہ ہے کہ فجر کی قضا پڑھ کر اگر جماعت میں شریک ہو سکتا ہے تو ایسا ہی کرے ورنہ جماعت چھوڑ کر پہلے قضا پڑھے پھر ظہر کی نماز تنہا ادا کرے. یہ اس صورت میں ہے جب کہ نماز کا قضا ہونا یاد ہو اور وقت میں گنجائش ہو. فتاوٰی عالمگیری مع خانیہ جلد اول صفحہ 122 پر ہے ” اذا صلى الظهر وهو ذاكر انه لم يصلي الفجر فسده ظهره” پھر اسی صفحہ کے آخر میں ہے ” اذا ذكر الفجر في آخر وقت الظھر فوقع على ظنه ان الوقت لا يحتمل الصلاتين فافتتح الظھر فصلاها وقد بقي من وقت الظهر بعضہ نظر فيه فان كان ما بقي من وقت الظهر ما امكنه ان يصلي فيه الفجر ثم الظهر لم تجزئہ التي صلي. ١ھ " والله تعالى اعلم الجواب صحیح :مفتی جلال الدین احمد الامجدی کتبہ :مفتی محمد ابرار احمد امجدی برکاتی
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ