صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

دارالافتاء
اہل سنت

MASAIL WORLD

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat

www.masailworld.com

مسائل ورلڈ

دارالافتاء اہل سنت

Fatwa #1805 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

صاحب ترتیب کی نماز فجر قضا ہوگئی اس نے امام کو نماز ظہر کے آخری رکعت میں پایا تو کیا کرے؟

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat تاریخ: September 18, 2025
0 13,759

سوال (Question):

صاحب ترتیب کی نماز فجر قضا ہوگئی اس نے امام کو نماز ظہر کے آخری رکعت میں پایا تو کیا کرے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

صاحب ترتیب کی نماز فجر قضا ہوگئی اس نے امام کو نماز ظہر کے آخری رکعت میں پایا تو کیا کرے؟

سوال : کیا فرماتے ہیں مفتیان دین و ملت اس مسئلہ میں کہ صاحب ترتیب یعنی جس کے ذمہ کوئی فرض نماز باقی نہیں ہے. اتفاق سے فجر کی نماز قضا ہوگئی لیکن ظہر تک اس نے نہیں پڑھی اور مسجد میں اس وقت پہنچا جب کہ امام ظہر کی آخری رکعت میں تھا اگر وہ فجر کی قضا پڑھے تو جماعت چھوٹ جائے گی ایسی صورت میں وہ کیا کرے؟ بینوا و توجروا الجوابــــــــــــــــــــــــ صورت مسؤلہ میں صاحب ترتیب جس کی نماز قضا ہو گئی ہے اگرچہ مسجد میں اس وقت پہنچا جبکہ امام ظہر کی آخری رکعت میں تھا اس کے لیے حکم یہ ہے کہ فجر کی قضا پڑھ کر اگر جماعت میں شریک ہو سکتا ہے تو ایسا ہی کرے ورنہ جماعت چھوڑ کر پہلے قضا پڑھے پھر ظہر کی نماز تنہا ادا کرے. یہ اس صورت میں ہے جب کہ نماز کا قضا ہونا یاد ہو اور وقت میں گنجائش ہو. فتاوٰی عالمگیری مع خانیہ جلد اول صفحہ 122 پر ہے ” اذا صلى الظهر وهو ذاكر انه لم يصلي الفجر فسده ظهره” پھر اسی صفحہ کے آخر میں ہے ” اذا ذكر الفجر في آخر وقت الظھر فوقع على ظنه ان الوقت لا يحتمل الصلاتين فافتتح الظھر فصلاها وقد بقي من وقت الظهر بعضہ نظر فيه فان كان ما بقي من وقت الظهر ما امكنه ان يصلي فيه الفجر ثم الظهر لم تجزئہ التي صلي. ١ھ “ والله تعالى اعلم الجواب صحیح :مفتی جلال الدین احمد الامجدی کتبہ :مفتی محمد ابرار احمد امجدی برکاتی

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat