بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2480 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
شیئر بازار میں پیسہ جمع کرنا کیسا ہے؟ شیر بازار میں انویسٹ کرنا کیسا ہے؟
الجوابــــــــــــــــــــــــــــ اس بارے میں اجمالی حکم یہ ہے کہ شئر بازار میں حصہ لینا اور اس میں روپے جمع کرنا ناجائز و گناہ ہے ۔ اس میں کچھ صورتیں جائز ہیں اور وہ ایکویٹی شئر ہیں، جنہیں اردو زبان میں مساواتی حصص کہا جاتا ہے مگر ان کے ساتھ ناجائز و سودی کا کاروبار یعنی ”پریفرنس شئرز ” یاترجیحی حصص کو اس طرح لازم کر دیا گیا ہے کہ ”پریفرنس شئرز ”کا سود ادا کیے بغیر ”ایکویٹی شئرز ” کا نفع تقسیم ہی نہیں ہوتا ، اور سب کو شئر کی سودکاری میں لازما ملوث ہونا پڑتا ہے ۔ اس لیے شئر بازار میں حصہ لینا نا جائز و گناہ ہے ۔ لہذا شیر بازار سے مسلمان بچیں ۔ یہ ہندوستان میں شئربازار کا قانون ہے اور جس ملک میں اس کے یہ قانون جاری ہوں وہاں بھی یہی حکم ہے ۔ واللہ تعالی اعلم کتبــــــــــــــــــــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ