بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1612 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
شوہر کے انتقال پر عورت اپنی چوڑیاں توڑے نہیں نکال دے
کسی کے شوہر کا انتقال ہو جائے تو عورت اپنی چوڑیاں توڑ سکتی ہے یا نہیں؟ المستفتیہ اقرا بانو کریلی الہ آباد یوپی انڈیا۔ الجواب بعون الملک الوھاب صورت مستفسرہ میں عورت کو اپنی چوڑیاں توڑنے کی اجازت نہیں کہ یہ تضیع مال ہے اور تضیع مال حرام ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ” لَا تُبَذِّرْ تَبْذِیۡرًا اِنَّ الْمُبَذِّرِیۡنَ کَانُوۡۤا اِخْوَانَ الشَّیٰطِیۡنِ وَکَانَ الشَّیۡطٰنُ لِرَبِّہٖ کَفُوۡرًا ۔ ( سورۃ بنی اسرائیل١٧: ٢٦/٢٧ ) ترجمہ: ” اور فضول نہ اڑا ،بیشک اڑانے والے شیطانوں کے بھائی ہیں اور شیطان اپنے رب کا بڑا ناشکرا ہے”۔ (کنزالایمان) حدیث پاک میں ہے: ” إِنَّ اللَّهَ كَرِهَ لَكُمْ ثَلَاثًا : قِيلَ وَقَالَ ، وَإِضَاعَةَ الْمَالِ، وَكَثْرَةَ السُّؤَالِ ". ( صحیح البخاری رقم الحدیث ١٤٧٧ ، کتاب الزکاۃ ، باب قول اللہ تعالی لَا يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا ) یعنی بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے تین کاموں کو ناپسند فرمایا(١)فضول باتیں کرنا(٢)مال ضائع کرنا(٣)بہت زیادہ سوال کرنا۔ ہاں چوڑیاں نکال دے کہ سوگ کے سبب اسے چوڑیاں پہننا منع ہے۔ حضور اعلی حضرت رضی اللہ تعالی عنہ سوگ کے سبب ممنوعہ چیزوں کو شمار کراتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں: "چوڑیاں اگرچہ کانچ کی ، غرض ہر قسم کا سنگار ختم عدت تک منع ہے۔” اھ( فتاویٰ رضویہ شریف ج١٣ ، ص٣٣١، کتاب الطلاق ، باب الحداد ، رضا فاؤنڈیشن لاہور) ۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ کتبہ گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔ صدر میرانی دار الافتاء وشیخ الحدیث جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ