دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #547
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
شوہر ماں باپ اور چھ بیٹیوں میں ترکہ کیسے تقسیم ہوگا
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
13,076
سوال (Question):
شوہر ماں باپ اور چھ بیٹیوں میں ترکہ کیسے تقسیم ہوگا
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
شوہر ماں باپ اور چھ بیٹیوں میں ترکہ کیسے تقسیم ہوگا
مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی۔ ایک عورت ہے جس کا نام صالحہ ہے اس کا انتقال ہو گیا ہے اور اس نے شوہر کو اور ماں باپ کو چھ بیٹیوں کو چھوڑا ہے ان کا حصہ کیسے تقسیم ہوگا۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب -بعون الملک الوھاب- صورت مسئولہ میں بعد تقدیم ماتقدم و انحصار ورثہ فی المذکورین کل ترکہ کے ٤٥ حصے کریں گے اس میں سے نو حصے شوہر کو چھ چھ حصے ماں باپ کو اور ہر بیٹی کو چار حصے دیں گے۔ قرآن پاک میں ہے: “فَاِنۡ کَانَ لَہُنَّ وَلَدٌ فَلَکُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَکۡنَ” (سورة النساء: ١٢) ترجمہ: پھر اگر ان کی اولاد ہو تو ان کے ترکہ میں سے تمہیں چوتھائی ہے (کنزالایمان) ” وَ لِاَبَوَیۡہِ لِکُلِّ وَاحِدٍ مِّنۡہُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَکَ اِنۡ کَانَ لَہٗ وَلَدٌ ” (سورۃ النساء: ١١) ترجمہ: ور میت کے ماں باپ کو ہر ایک کو اس کے ترکہ سے چھٹا اگر میت کے اولاد ہو (کنز الایمان) سراجی میں ہے: “والثلثان للاثنتين فصاعدة” اھ (ص٢١، فصل فی النساء ، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی) دو اور اس سے زائد لڑکیوں کا حصہ دو ثلث ہے۔ واللہ تعالیٰ ورسولہﷺ اعلم بالصواب ۔ کتبہ: محمد صدام حسین برکاتی فیضی
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat