بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2041 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
شوہر اپنی بیوی کو مہر دیتے وقت نہ بتاے کہ یہ مہر ہے تو کیا مہر ادا ھوجائے گا
سوال : کیا فرمائے ھیں مفتیاں کرام مسلہ ذیل کے بارے میں شوھر اپنی بیوی کو مھر کا روپےادا کرتے وقت یہ بتایا نہیں کہ یہ مہر کا روپےہیں تو کیا مہر ادا ھوجاےگا برائے مہربانی جواب عنایت فرمائیں فقط والسلام بسم اللہ الرحمن الرحیم، الجواب بعون الملک الوہاب صورت مسؤلہ میں، شوہر نے بیوی کو(مہر کی رقم سمجھکر) کچھ دیا خواہ نقد روپیہ، ہو،یا عیدی ہو ، اور دیتے وقت یہ نہ بتایا کیا یہ مہر کا روپیہ ہے،تو اب بھیجنے والی چیز ہدیہ قرار پا چکی ہے، لہذا وہ مہر میں شمار نہیں ہو سکتی ہے ، یعنی مہر ادا نہیں ہوگا، جیسا کہ، بہار شریعت حصہ ہفتم میں،صدر الشریعہ بدرا لطریقہ مفتی محمد امجد علی علیہ الرحمۃ والرضوان مسئلہ نمبر 55 میں میں تحریر فرماتے ہیں، شوہر نے عورت کے ہاں عیدی بھیجی پھر یہ کہتا ہے کہ وہ روپے مہر میں بھیجے تھے تو اسکا قول نہیں مانا جائے گا، (7)عالمگیری،بہار شریعت حصہ ہفتم، صفحہ نمبر 78 مہر کا بیان، وھکذا ولوبعث الی امراۃ شیٔاولم یذکر،جھۃ عند الدفاع غیر جھۃ المھر،کقولہ لشعمع اوحناء ثم قال انہ من المھر لم یقبل قینہ لوقوعہ ھدیٔہ فلا ینقلب مھرا فقالت ھو ای المبعوث ھدیۃ و قال ھو من المھر الخ ۔ ترجمہ، اگر شوہر نے اپنی بیوی کو کچھ بھیجا خواہ نقد خواہ جنس اور دیتے وقت کوئی ایسی بات نہیں ذکر کی جو مہر کے مغائر ہے،یعنی نہ یہ کہا کہ یہ مہر ہے اور نا یہ بتایا یا کہ مہر کے علاوہ کچھ اور ہے،جیسے یہ کہا ہوتا کہ اسے شمع یا مہدی میں خرچ کرو ،پھر شوہر نے بعد میں صراحت کر کے کہا کہ وہ مہر میں بھیجا تھا تو اس کا یہ قول قابل اعتبار نہیں ہوگا،اس لیے کی وہ چیز ہدیہ قرار پا چکی ہے، لہذا وہ مہرمیں شمار نہیں ہو سکتی ہے، درمختار مترجم،کتاب النکاح،باب ا لمہر، جلد دوم،صفحہ نمبر ٤٥٤/٤٥٥, حاصل کلام سائل کا جواب، شوہر،کا اپنی بیوی کو مہر کا روپیہ ادا کرتے وقت یہ نہ بتانا کہ یہ مہر کا روپیہ ہے،تو ایسی صورت میں مہر ادا نہیں ہوگا، واللہ تعالی اعلم بالصواب، کتبــــــــہ : مفتی منظور القادری خادم التدریس لدرجات العالیہ دار العلوم معین الاسلام چھتونہ میگھولی کلاں مہراجگنج یوپی
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ