دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #2514
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
شوال کے روزے کب رکھے جائیں؟ از مفتی نظام الدین رضوی
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
9,436
سوال (Question):
شوال کے روزے کب رکھے جائیں؟ از مفتی نظام الدین رضوی
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
شوال کے روزے کب رکھے جائیں؟
الجوابـــــــــــــــــــــــــــــــــ عید کے بعد دوسرے دن سے جب چاہیں یہ روزے رکھ سکتے ہیں، بس یہ لحاظ رہنا چاہیے کہ ماہ شوال میں یہ روزے مکمل کر لیے جائیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مطلقا شوال میں روزے رکھنے کی فضیلت بیان فرمائی ہے ۔ مثلا صحیح مسلم شریف کی حدیث میں ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا ” جس نے رمضان کے روزے رکھے پھر ان کے بعد چھ دن شوال میں رکھے تو وہ ایسا ہے جیسے اس نے زمانے کا روزہ رکھا ۔ (صحیح مسلم، کتاب الصیام، باب استحباب صوم ستۃ ایام من شوال) اس سے یہ معلوم ہوا کہ یہ فضیلت شوال میں چھہ روزے رکھنے کی ہے اور جب یہ ترغیب مطلق ہے تو پورے شوال میں ایک ساتھ یا الگ یہ روزے رکھے گا اختیار ہے ہاں اگر ایک ایک دن کے ناغے سے تو یہ بہتر ہے ۔ اگر عورتوں کو روزے رکھنے ہیں تو یہ ضروری ہے کہ وہ ایام عورتوں کی پاکی کے ہوں یعنی نہ تو حیض کا خون آ رہا ہوں اور نہ نفاس کا خون آرہا ہوں ان دونوں کے علاوہ وہ جب چاہیں پورے شوال میں روزے رکھ سکتی ہیں ۔ واللہ تعالی اعلم ۔ کتبـــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat