لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 12 اگست 2026

یوٹیوب (YouTube) سے پیسے کمانے کا شرعی حکم

کیا یوٹیوب پر چینل بنا کر اس کی مونیٹائزیشن سے پیسے کمانا جائز ہے؟

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

اگر ویڈیو میں کوئی خلافِ شرع بات نہ ہو، اور جو اشتہارات (Ads) ویڈیو پر چلیں وہ بھی حلال پروڈکٹس کے ہوں اور ان میں موسیقی یا بے پردہ تصاویر نہ ہوں تو کمائی حلال ہے۔ چونکہ یوٹیوب پر اشتہارات کو مکمل کنٹرول کرنا مشکل ہے، اس لیے اکثر علماء اس کمائی کو مشکوک یا ناجائز قرار دیتے ہیں۔ واللہ اعلم۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات