بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-467 | تاریخ: 12 اگست 2026
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے مستحق شخص (غریب) کو مالک بنانا (تملیک) شرط ہے۔ چونکہ مسجد کی تعمیر یا رفاہی فنڈز میں یہ شرط پوری نہیں ہوتی، اس لیے مسجد کی تعمیر میں زکوٰۃ دینا جائز نہیں۔ مدرسے میں زکوٰۃ صرف اس شرط پر دی جا سکتی ہے کہ انتظامیہ اسے مستحق غریب طلبہ کے کھانے پینے اور رہائش پر خرچ کرے۔ واللہ اعلم۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ