بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت – جامعہ قادریہ علیمیہ، نوی ممبئی | azharalimi95@gmail.com
لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 12 اگست 2026

شدید غصے کی حالت میں طلاق دینے کا شرعی حکم

میں نے اپنی بیوی کو بہت تیز غصے میں تین طلاقیں دے دیں، کیا طلاق ہو گئی؟

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

طلاق عام طور پر غصے میں ہی دی جاتی ہے۔ اگر غصہ اس حد تک ہو کہ انسان عقل و ہوش کھو بیٹھے (پاگل پن کا دورہ پڑ جائے) اور اسے معلوم نہ ہو کہ کیا کہہ رہا ہے، صرف اس صورت میں طلاق واقع نہیں ہوتی۔ لیکن اگر وہ جانتا تھا کہ وہ طلاق دے رہا ہے تو غصے کے باوجود طلاق واقع ہو جائے گی۔ واللہ اعلم۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات