لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

سید احمد علی گڑھی اپنے عقائد باطلہ کی بنیاد پر کافر ومرتد ہے

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

سید احمد علی گڑھی اپنے عقائد باطلہ کی بنیاد پر کافر ومرتد ہے

سوال:- سید احمد علی گڑہی کے متعلق علمائے اہلسنت کا کیا نظریہ ہے؟ الجواب بعون الملك الوھاب سید احمد علی گڑہی کے متعلق علمائے اہلسنت کا نظریہ یہ ہے کہ وہ اپنے عقائد باطلہ مثلا فرشتوں کا کوئی الگ وجود نہیں،قرآن کریم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی معجزے کے صادر ہونے کا ذکر نہیں ہے،مرنے کے بعد اٹھنا،حساب وکتاب،میزان،پل صراط،جنت ودوزخ وغیرہ سب مجاز پر محمول ہیں نہ کہ حقیقت پر،معراج حالت بیداری میں نہیں ہوئی بلکہ حالت خواب میں ہوئی خواہ مکہ مکرمہ سے مسجد اقصی تک ہو یا مسجد اقصی سے آسمانوں تک وغیرہ کی بنیاد پر کافر ومرتد ہے،سید احمد علی گڑہی اور اس کے متبعین سے میل جول اور ان کی مجلس میں شرکت حرام ہے- اعلحضرت امام اہلسنت رضی اللہ عنہ "المعتمد المستند”میں تحریر فرماتے ہیے: "فیجب التنبه على كفر الكافرين المتسترين باسم الاسلام ولا حول ولاقوة الا بالله، فمنهم النياشرة اتباع سيد احمد الكولي(نسبة الى”كول”بكاف مضمومة،و واؤ غير مشبعة،قرية من قرى الهند يقال لها”على كره”أيضا)-فانهم ينكرون اكثر ضروريات الدين ،ويأولونها الى ما تهوى انفسهم،فيقولون لا جنة،ولا نار،ولا حشر اجساد،ولا ملك،ولا جن،ولا اسراء،ولا معجزة،ملتقطا”(المعتمد المستند مع المعتقد المنتقد ص ۲۲۲) اور امام اہلسنت رحمہ اللہ "الدلائل القاهرة على الكفرة النياشرة”میں فرماتے ہیں : "ایسی مجلس مقرر کرنا گمراہی ہے اور اس میں شرکت حرام،اور بدمذہبوں سے میل جول آگ ہے اور اس بڑی آگ کی طرف کھینچ کر لے جانے والا”(فتاوی رضویہ مترجم ج۲۰ ص۵۸۴) امام اہلسنت رحمہ اللہ کے اس رسالہ مبارکہ پر متعدد بلادوامصار کے علمائے اہلسنت کی تصدیقات ہیں، اور علامہ بدرالدین احمد قادری رحمہ اللہ رقمطراز ہیں: "حقیقت یہ ہے کہ سرسید نے اصلاح کے نام پر مسلمانوں کے اسلامی عقائد بگاڑنے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی-انگریزوں کی گود میں بیٹھ کر اصل اسلام کی شکل وصورت مسخ کرتےرہے-انگریزوں کی خطرناک سازش کو کامیاب بنانے کے لئے مسلمانوں میں نیچریت کو خوب پھیلایا-انہیں سرسید نے علی گڑہ میں انگریزی درسگاہ بنام مدرسة العلوم قائم کرکے ہمدرد اسلام بننے کی ناکام کوشش کی ہے-اگر نیچریوں اور وہابیوں کے شوروغوغا کے مطابق یہ تسلیم بھی کرلیا جائے کہ واقعی سرسید مسلم قوم کے ہمدرد،خیرخواہ اور ریفارمر تھے ان میں بہت کچھ ذاتی خوبیاں تھیں تو کیا ان سب باتوں سے سرسید کے کفری عقائد اسلام بن جائیں گے؟یاد رکھو کہ،ع ؛ وہ سبھی کچھ ہیں بتاؤکہ مسلمان بھی ہیں”(سوانح اعلحضرت ص۳۷ تا ۳۸) والله تعالى اعلم بالصواب کتبہ: محمد ارشاد رضا علیمی غفرلہ المتخصص فی الفقہ الاسلامى بدار العلوم العلیمیہ الجواب صحیح : محمد اختر حسین قادری خادم افتاودرس دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی بستی یوپی

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات