لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

سونا چاندی کی بجائے درخت ہو تو کیا اس پر زکوۃ واجب ہے؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

سونا چاندی کی بجائے درخت ہو تو کیا اس پر زکوۃ واجب ہے؟

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ اگر کسی شخص کے پاس سونا چاندی اور نہ ہی روپیہ ہے لیکن اس کے پاس درخت ہے کیا اس پر زکوۃ واجب ہے. اور اگر واجب ہے تو درختوں کی زکوۃ کس طرح ادا کرے گا؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــ صورت مسؤلہ میں جس شخص کے پاس درختوں کے علاوہ سونا، چاندی نہیں اور نہ ہی مال تجارت ہے اور نہ اتنے روپیے ہیں کہ بازار میں ساڑھے باون تولہ چاندی یا ساڑھے سات تولہ سونا خرید سکتا ہے تو اس پر زکات واجب نہیں. اس لئے کہ درخت پر اس زکوۃ نہیں البتہ ان کے پھلوں میں عشر واجب ہے چاہے تھوڑے ہو یا زیادہ. حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں جو چیز زمین کے تابع ہو جیسے درخت اس میں عشر نہیں( بہار شریعت حصہ پنجم صفحہ 53) اور حضرت علامہ ابن نجیم علیہ الرحمۃ تحریر فرماتے ہیں ” لا عشر فیما ھو تابع للارض کالنخل والاشجار لانہ بمنزلۃ جزء الارض” (بحر الرائق جلد دوم صفحہ 238) اور جو ہرہ نیرہ جلد اول صفحہ 155 میں ہے ” العشر عندہ یجب فی قلیل الثمار وکثیرھا لانہ لا یعتبر فیھا النصاب” واللہ تعالی اعلم الجواب صحیح :مفتی جلال الدین احمد الامجدی کتبہ : مفتی محمد ابرار احمد امجدی برکاتی

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات