بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1734 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
سونا چاندی کی بجائے درخت ہو تو کیا اس پر زکوۃ واجب ہے؟
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کہ اگر کسی شخص کے پاس سونا چاندی اور نہ ہی روپیہ ہے لیکن اس کے پاس درخت ہے کیا اس پر زکوۃ واجب ہے. اور اگر واجب ہے تو درختوں کی زکوۃ کس طرح ادا کرے گا؟ الجوابـــــــــــــــــــــــــ صورت مسؤلہ میں جس شخص کے پاس درختوں کے علاوہ سونا، چاندی نہیں اور نہ ہی مال تجارت ہے اور نہ اتنے روپیے ہیں کہ بازار میں ساڑھے باون تولہ چاندی یا ساڑھے سات تولہ سونا خرید سکتا ہے تو اس پر زکات واجب نہیں. اس لئے کہ درخت پر اس زکوۃ نہیں البتہ ان کے پھلوں میں عشر واجب ہے چاہے تھوڑے ہو یا زیادہ. حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمہ فرماتے ہیں جو چیز زمین کے تابع ہو جیسے درخت اس میں عشر نہیں( بہار شریعت حصہ پنجم صفحہ 53) اور حضرت علامہ ابن نجیم علیہ الرحمۃ تحریر فرماتے ہیں ” لا عشر فیما ھو تابع للارض کالنخل والاشجار لانہ بمنزلۃ جزء الارض” (بحر الرائق جلد دوم صفحہ 238) اور جو ہرہ نیرہ جلد اول صفحہ 155 میں ہے ” العشر عندہ یجب فی قلیل الثمار وکثیرھا لانہ لا یعتبر فیھا النصاب” واللہ تعالی اعلم الجواب صحیح :مفتی جلال الدین احمد الامجدی کتبہ : مفتی محمد ابرار احمد امجدی برکاتی
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ