لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

سورت کے شروع میں بسم اللہ پڑھنا؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

سورت کے شروع میں بسم اللہ پڑھنا؟

سوال سورۂ فاتحہ اور سورہ اخلاص وغیرہ سے پہلے بسم اللہ پڑھنا کیسا؟ الجوابــــــــــــ بعون الملک الوھّاب صورت مسئولہ میں مقتدی کے لئے تو حکم یہ ہے کہ جب وہ شروع سے امام کے ساتھ نماز میں شامل ہو تو ثناء پڑھنے کے بعد ہر رکعت میں خاموش ہی کھڑا رہے گا، ہاں اگر تنہا نماز ادا کر رہا ہے تو ہر رکعت میں سورہ فاتحہ سے پہلے بسم اللہ پڑھنا سنت ہے، اور سورہ فاتحہ کے بعد سورت پڑھنے سے قبل بسم اللہ پڑھنا مستحب ہے یہ اس وقت ہے کہ جب کوئی سورت شروع سے پڑھے اگر سورت کے درمیان سے پڑھے تو مستحب نہیں، اور یہ حکم امام اور منفرد کے لئے ہے مقتدی کے لئے بسم اللّٰہ پڑھنے کاحکم نہیں.. امام اہلسنت مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں، سورۂ فاتحہ کی ابتدا میں تسمیہ(بسم اللّٰہ پڑھنا سنت ہے، اور اس کے بعد اگر کوئی سورت اول سے پڑھے تو اس پر بسم اللہ کہنا مستحب ہے، اور کچھ آیتیں کہیں سے پڑھے تو اس پر کہنا(یعنی سبم اللہ پڑھنا مستحب نہیں، اور قیام کے سوا رکوع و سجود و قعود کسی جگہ بسم اللہ پڑھنا جائز نہیں- (فتاویٰ رضویہ جلد6 صفحہ349 رضا فاؤنڈیشن لاہور) نوٹ مطالعہ فرما کرشیئر ضرور کریں.. اللہ تعالٰی عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ خاتم النبیین ﷺ

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات