دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #1857
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
سوتیلی ماں کی بہن سے نکاح جائزہے از مفتی صدام حسین فیضی
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
6,977
سوال (Question):
سوتیلی ماں کی بہن سے نکاح جائزہے از مفتی صدام حسین فیضی
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
سوتیلی ماں کی بہن سے نکاح جائزہے کافر کی دی ہوئی زمین پر مسجدنہیں بناسکتے
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ سوتیلی ماں کی حقیقی بہن سے نکاح کرنا کیسا ہے اور کافر کی دی ہوئی زمین میں مسجد بنا سکتے ہیں یانہیں مدلل جواب عنایت فرماکر عند اللہ ماجور ہوں۔ المستفتیہ : افسانہ شیخ گوپی گنج بھدوہی یوپی انڈیا۔ الجواب بعون الملک الوھاب سوتیلی ماں کی بہن سے نکاح جائز ہے کہ وہ خالہ نہیں ۔ حضور اعلی حضرت رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں :”سوتیلی ماں کی بہن سے نکاح جائز ہے، کچھ حرج نہیں” اھ ۔ (فتاوی رضویہ مترجم ج ١١ص ٦٧٠ کتاب النکاح، باب المحرمات) (2) اور کافر کی دی ہوئی جگہ میں مسجد نہیں بنائی جاسکتی ہے کہ مسجد وقف کی زمین میں بنائی جاتی ہے اور کافر کا وقف صحیح نہیں۔ ہاں وہ کسی مسلمان کو ہبہ کردے اور وہ مسلمان اس پر قبضہ کرکے مسجد کے لئے وقف کردے تو مسجد بناسکتے ہیں لیکن ایسا اس وقت کرنا چاہئے جب اندیشۂ ضرر نہ ہو ۔ حضور اعلی حضرت رضی اللہ تعالی عنہ ایسے ہی ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں :” رہی پہلی صورت کہ مشرک اپنی زمین میں مسجد بنوادے اگرمشرک نے وہ زمین کسی مسلمان کو ہبہ کردی اور مسلمان نے مسجد بنوائی تو جائز ہے اور اس میں نماز مسجد میں نمازہے، اور اگر بے تملیک مسلم اپنی ہی ملک رکھ کر مسجد بنوائی تو وہ مسجد شرعا مسجد نہ ہوئی،لان الکافر لیس اھل لوقف المسجد ( یعنی کافر مسجد کو وقف کرنے کی اھیلت نہیں رکھتا ہے ) “اھ (فتاوی رضویہ مترجم ج ١٦ ص٢٩٧ / ٢٩٨ کتاب الوقف، باب المسجد) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ کتبہ گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی خادم میرانی دار الافتاء
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat