بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1598 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
سوتیلی ماں کی بہن سے شادی کرنا کیسا ہے؟
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ: کیا فرماتے ہیں علمائےکرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر والد نے دو شادیاں کی ہوں پہلی مرحومہ بیوی کا بیٹا دوسری سوتیلی ماں کی بہن سے شادی کر سکتا ہے یانہیں ؟ (المستفتی نور محمد شاکر ساھیوال سرگودھا) *وعلیکم السلام و رحمۃ اللّٰہ تعالٰی و برکاتہ* الجـــــوابــــــــــــ” بعون الملک الوھّاب مذکورہ صورت میں مرحومہ بیوی کے بیٹا کا اپنی سوتیلی ماں کی بہن سے نکاح کرنا جائز ہے، جبکہ ان کے درمیان کوئی اور مانع نکاح(مثلا حرمت رضاعت یا حرمت مصاہرت وغیرہ قائم نہ ہو(البتہ جس عورت سے نکاح کرنا جائز نہیں وہ حقیقی یا رضاعی ماں کی سگی بہن یا ماں شریک بہن یا باپ شریک بہن یا دودھ شریک بہن ہے: (فتاویٰ شامی میں ہے)و لا تحرم أم زوجة الأب و لا بنتھا فأخت زوجة الأب أولى بأن لا تحرم *( یعنی* باپ کے بیوی کی ماں حرام نہیں ہوتی اور نہ ہی اس سوتیلی ماں کی بیٹی جو دوسرے باپ سے ہو تو بدرجہ اولیٰ اس سوتیلی ماں کی بہن حرام نہ ہوگی : *(فتاویٰ شامی جلد 4 صفحہ نمبر 105*) (اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں امام اہلسنت مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں : کہ سوتیلی ماں ماں نہیں ،قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ( اِنۡ اُمَّهتُهمۡ اِلَّا الِّٰٓیۡٔ وَلَدۡنَهمۡ *یعنی* تمہاری مائیں وہی ہیں جنھوں نے تمہیں جنم دیا ہے: *( پارہ 28 سورۃ المجادلہ آیت نمبر2 )* (اس کی سگی بہن سے نکاح جائز ہے: قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے : وَ اُحِلَّ لَکُمۡ مَّا وَرَآءَ ذٰلِکُمۡ *یعنی* محرمات کے علاوہ عورتیں تمہارے لئے حلال ہیں : *(پارہ 5 سورۂ نساء آیت نمبر 24*) *(فتاویٰ رضویہ جلد11 صفحہ نمبر453* *رضا فاؤنڈیشن*) *(فتاویٰ فیض الرسول جلد1 صفحہ577*) *واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم ﷺ* کتبــــــــــــــــــــــہ :ابورضا محمد عمران عطاری مدنی
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ