دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #1306
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
سنی کا نکاح کسی اور فرقہ کا نکاح خواں پڑھا دے تو شرعاً کیا حکم ہے؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
7,791
سوال (Question):
سنی کا نکاح کسی اور فرقہ کا نکاح خواں پڑھا دے تو شرعاً کیا حکم ہے؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
سنی کا نکاح کسی اور فرقہ کا نکاح خواں پڑھا دے تو شرعاً کیا حکم ہے؟
ابورضا محمد عمران عطاری مدنی سوال: اہلسنت کا نکاح کسی اور فرقے کا نکاح خواں پڑھا دے تو شرعاً نکاح ہوجائے گا؟ الجوابــــــــــــ بعون الملک الوھّاب سیدی اعلیٰ حضرت مجدد دین و ملت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں، اگر کوئی ہندو مشرك زوجین کو ایجاب وقبول رو بروئے گواہان کرا دے اور شرائط صحت متحقق ہوں نکاح ہوجائے گا۔ (فتاویٰ رضویہ جلد11صفحہ219- رضا فاؤنڈیشن لاہور) مذکورہ عبارت سے معلوم ہوا کہ نکاح میں شرعی گواہان کی موجودگی میں نکاح خواں ایجاب و قبول کر وادے اور وہ کسی بھی فرقہ سے تعلق رکھنے والا ہو تو اس طرح نکاح منعقد ہو جائے گا کیونکہ نکاح خواں محض وکیل ہوتا ہے اور وکالت کے لئے اسلام شرط نہیں ہے، لیکن اہلسنت صحیح العقیدہ کے سوا کسی اور سے نکاح نہ پڑھوایا جائے کیونکہ اس میں اس کی تعظیم کرنی پڑے گی جبکہ بدمذہب کی تعظیم جائز نہیں ہے-امام کے نکاحانہ میں سے کچھ متولی وغیرہ کا مسجد میں لگانا کیسا ؟
عیسائی عورت سے نکاح کرنا کیسا؟
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat