بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1306 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
سنی کا نکاح کسی اور فرقہ کا نکاح خواں پڑھا دے تو شرعاً کیا حکم ہے؟
ابورضا محمد عمران عطاری مدنی سوال: اہلسنت کا نکاح کسی اور فرقے کا نکاح خواں پڑھا دے تو شرعاً نکاح ہوجائے گا؟ الجوابــــــــــــ بعون الملک الوھّاب سیدی اعلیٰ حضرت مجدد دین و ملت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں، اگر کوئی ہندو مشرك زوجین کو ایجاب وقبول رو بروئے گواہان کرا دے اور شرائط صحت متحقق ہوں نکاح ہوجائے گا۔ (فتاویٰ رضویہ جلد11صفحہ219- رضا فاؤنڈیشن لاہور) مذکورہ عبارت سے معلوم ہوا کہ نکاح میں شرعی گواہان کی موجودگی میں نکاح خواں ایجاب و قبول کر وادے اور وہ کسی بھی فرقہ سے تعلق رکھنے والا ہو تو اس طرح نکاح منعقد ہو جائے گا کیونکہ نکاح خواں محض وکیل ہوتا ہے اور وکالت کے لئے اسلام شرط نہیں ہے، لیکن اہلسنت صحیح العقیدہ کے سوا کسی اور سے نکاح نہ پڑھوایا جائے کیونکہ اس میں اس کی تعظیم کرنی پڑے گی جبکہ بدمذہب کی تعظیم جائز نہیں ہے-امام کے نکاحانہ میں سے کچھ متولی وغیرہ کا مسجد میں لگانا کیسا ؟
عیسائی عورت سے نکاح کرنا کیسا؟
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ