لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

سنت مؤکدہ و غیر مؤکدہ پڑھنے کا طریقہ

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

سنت مؤکدہ و غیر مؤکدہ پڑھنے کا طریقہ

سنت مؤکدہ و غیرمؤکدہ کی ادائیگی کا طریقہ یہ ہے) کہ فرضوں کی ابتدائی دو رکعتوں میں سورة الفاتحہ کے ساتھ کسی سورت کا ملانا، یا تین چھوٹی یا ایک بڑی آیت کا ملانا واجب ہے، اور آخری دو رکعتوں میں صرف سورة فاتحہ پڑھنا مسنون ہے، سورت ملانا واجب نہیں ہے- جبکہ سنتیں، مؤکدہ ہوں یا غیر مؤکدہ، دو ہوں یا چار، ان کی ہر رکعت میں سورة فاتحہ کے ساتھ سورة کا ملانا واجب ہے. البتہ سنت مؤکدہ اور فرض میں یہ فرق ہے کہ چار رکعت والی فرض نماز اور سنت مؤکدہ میں پہلے قعدہ میں صرف تشہّد(یعنی عبدہ ورسولہ تک پڑھ کر تیسری رکعت کے لیے اٹھ جانا واجب ہے، درودپاک اور دعا نہیں پڑھنی، اگر بھول کر درود شریف پڑھا لیا تو سجدۂ سہو واجب ہوگا، اور سنت مؤکدہ میں جب تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہوں تو ثناء اور اعُوْذُ بھی نہیں پڑھنا، لیکن سنت غیر مؤکدہ میں پہلے قعدہ میں بھی التحیات مکمل(یعنی)درود شریف اور دعا پڑھ کر تیسری رکعت کے لیے اٹھنا ہے، اور پہلی اور تیسری رکعت کا آغاز بھی ثناء سے کرنا ہے- (ماخوذ کتب فقہ) واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم ﷺ کتبـــہ :ابورضا محمد عمران عطاری عفی عنہ متخصص فی الفقہ

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات