بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-46 | تاریخ: 12 اگست 2026
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
نکاح کے بعد عورت کے لیے اس کا سسر، اور ساس کے لیے اس کا داماد ‘محرمِ ابدی’ بن جاتے ہیں (یعنی ان سے ہمیشہ کے لیے نکاح حرام ہو جاتا ہے)۔ اس لیے سسر اور داماد سے چہرے کا پردہ فرض نہیں، یہ محرم ہیں۔ البتہ سر پر دوپٹہ رکھنا اور حیادار لباس پہننا ضروری ہے، بالخصوص اگر سسر جوان ہو اور فتنے کا اندیشہ ہو تو احتیاط کرنا مستحب ہے۔ واللہ اعلم۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ