بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1835 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
سر کا مسح کرنے کا مستحب طریقہ کیا ہے؟
الجوابـــــــــــــــــــــ حضرت صدر الشریعہ علیہ الرحمہ نے فرمایا ہے مسح سر میں مستحب طریقہ یہ ہے کہ انگوٹھے اور کلمہ کی گلیوں کے سوا ایک ہاتھ کی باقی تین انگلیوں کا سرا دوسرے ہاتھ کی تین انگلیوں کے سرے سے ملائے اور پیشانی کے بال یا کھال پر رکھ کر گدی تک اس طرح لے جائے کہ ہتھیلیاں سر سے جدا رہیں. وہاں سے ہتھیلیوں سے مسح کرتا واپس لائے اور کلمہ کی انگلی کے پیٹ سے کان کے اندرونی حصے کا مسح کرتے اور انگوٹھے کے پیٹ سے کان کی بیرونی سطح کا مسح اور انگلیوں کی پشت سے گردن کا مسح کرے. (جلد 2 صفحہ 20) اورمسح سر میں ادائے سنت کو یہ بھی کافی ہے کہ انگلیاں سر کے اگلے حصہ پر رکھے اور ہتھیلی سر کی کروٹوں پر اور ہاتھ جما کر گدی تک کہنچتا لے جائے. ایسا ہی حاشیہ فتاوی رضویہ جلد اول صفحہ 230 میں ہے. اور فتاوی عالمگیری مع خانیہ جلد اول صفحہ 7 پر ہے "والاظہر انہ یضع کفیہ واصابعہ علی مقدم راسہ ویمدھما الی قفاہ علی وجہ یستوعب جمیع الراس ١ھ. واللہ تعالی اعلم کتبہ : مفتی خورشید احمد مصباحی الجواب صحیح : مفتی جلال الدین احمد الامجدی
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ