لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

سر منڈانا جائز ہے بعض لوگ کہتے ہیں کہ حضرت علی بھی سر منڈاتے تھے، کیا یہ درست ہے؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

سر منڈانا جائز ہے بعض لوگ کہتے ہیں کہ حضرت علی بھی سر منڈاتے تھے، کیا یہ درست ہے؟

الجواب بعون الملک الوھاب  مرد کے لیے سر منڈا جائز ہے گناہ نہیں ہے اور حضرت مولیٰ علی رضی اللہُ تعالیٰ عنہ بطورِ عادت منڈایا کرتے تھے- (سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں، کہ حضرت مولیٰ علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم ہمیشہ اپنے سر کے بال منڈ واتے اس وجہ سے کہ ہر بال کے نیچے جنابت ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ وہاں تک پانی نہ پہنچے، اور فرمایا کرتے یہی وجہ ہے کہ میں اپنے سرکے بالوں کا دشمن ہوں- (وقد روی رضی تعالٰی عنہ ان تحت کل شعرۃ جنابۃ-ثم قال من ثم عادیت راسی من ثم عادیت راسی من ثم عادیت راسی- (یعنی: بلا شبہ حضرت علی رضی ﷲ تعالٰی عنہ سے راویت کی ہے کہ ہر بال کے نیچے جنابت ہے لہذا اس وجہ سے میں اپنے سر کے بالوں کا دشمن ہوں اسی وجہ سے میں اپنے سر کے بالوں کا دشمن ہوں اسی وجہ سے میں اپنے سر کے بالوں کا دشمن ہوں- (سنن ابی داؤد کتاب الطہارۃ باب فی الغسل من الجنابۃ، جلد1صفحہ33- مطبوعہ آفتاب عالم پریس لاہور) (بحوالہ فتاویٰ رضویہ جلد22صفحہ686تا 690- مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور) واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم ﷺ

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات