لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

سجدے کی حالت میں پاؤں کی انگلیوں کے پیٹ زمین سے لگانا مردوں کےساتھ خاص ہے، عورتیں نہیں لگائیں گی

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

سجدے کی حالت میں پاؤں کی انگلیوں کے پیٹ زمین سے لگانا مردوں کےساتھ خاص ہے، عورتیں نہیں لگائیں گی

مرد حالت سجدہ میں انگلیوں کا پیٹ زمین پر لگائے گا اور عورت بھی ایسے ہی سجدہ کرے گی یا اس کے سجدے میں کچھ فرق ہے؟؟جواب عنایت فرمائیں سائل ریاض احمد امجدی الجواب بعون الملک الوھاب مرد و عورت کی نماز میں کئی مسائل جداگانہ ہیں ۔ علامہ سید ابوالسعود علیہ الرحمہ نے امام فخرالدین زیلعی علیہ الرحمہ کے حوالے سے دس گنائیں ‌ ” والحاصل ان المرأة تخالف الرجل فی مسائل عشرة کما فی الزیلعی ‌” (ضوءالمصباح شرح نورالایضاح، ص205، مخطوطہ مکتبہ جامعۃالریاض ) علامہ علاءالدین حصکفی علیہ الرحمۃ نے پچیس شمار کئے ” وحررنا فی الخزائن انھا تخالف الرجل فی خمسۃوعشرین ” {الدرالمختار ص69، دارالکتب العلمیۃ} علامہ ابراھیم بن مصطفے حلبی علیہ الرحمہ نے اس طرح شمار فرمایا ” خمسة وعشر ين ذكر فی البحر منها ثلاثة عشر ترفع يديها الى منكبيها وتضع يمينها على شمالهاتحت ثديها ولا تجافي بطنها عن فخديها وتضع يديها علی فخذيها تبلغ اصابعها ركبتيها ولا تفتح ابطيها في السجود وتجلس متوركة في التشهد ولا تفرج) اصابعها في الركوع ولاتؤم الرجال وتكرہ جما عتهن و يقوم الامام وسطهن ولا تنصب اصابع القدمين ولایستحب فی حقها الاسفار بالفجر ولايستحب في حقها الجهر بالقرآة في الصلاة الجهریۃ ” {تحفۃ الاخیار شرح الدرالمختار ص122, مخطوطہ جامعۃالملک سعود} علامہ ابن عابدین شامی علیہ الرحمۃ نے معراج الدرایہ کے حوالے سے چھبیس کا ذکر فرمایا ” وحاصل ماذکرہ ان المخالفۃ فی ست وعشرین ” {ردالمحتار ج1ص504, دارالکتب العلمیۃ} انہی احکام مخالف میں سے سجدے میں پاؤں کی انگلیوں کے پیٹ زمین سے لگانے کا مسئلہ بھی ہے، کہ مرد لگائےگا اور عورت نہیں لگائےگی علامہ سید ابوالسعود علیہ الرحمہ فرماتےہیں ” وظاھر قولہ فی البحر لا تنصب اصابع القدمین انہ لا یفترض فی حقھا وضع الاصابع ” {فتح اللّٰہ المعین، ج1 ص193, مطبوعہ مصر} علامہ سید احمد طحطاوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں ” ولا تنصب أصابع القدمين وظاهر : أنه لا يفترض في حقها وضع بعض الأصابع، فافتراضه خاص بالرجال ” {حاشیۃالطحطاوی علی الدر، ج2 ص190, دارالکت العلمیۃ} کہ عورت سجدے میں اپنے پاؤں نصب نہیں کرےگی، اس کا ظاہری مطلب یہی ہےکہ اس کے حق میں کچھ انگلیوں کے باطن کا زمین پر رکھنا فرض نہیں ہے، اس کی فرضیت مردوں کے ساتھ خاص ہے بلکہ عورتیں اس طرح جھک کر سجدہ کریں کہ بازو کروٹوں سے ملے ہوئے ہوں، پیٹ ران سے اور پنڈلیاں زمین سے، اور دونوں پاؤں پیچھے نکال دے امام ابوالبرکات نسفی علیہ الرحمہ فرماتےہیں ” و تنخفض المرأة فی سجودھا، و تلزق، بطنھا بفخذھا لان ذالک استر لھا، فیکون اولی بحالھا ” {الکافی شرح الوافی، ص54, مخطوطہ} واللہ تعالی اعلم باالصواب کتبــــہ:محمد شکیل اختر قادری برکاتی , شیخ الحدیث بمدرسةالبنات مسلک اعلی حضرت صدر صوفہ ھبلی کرناٹک

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات