دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #273
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
قربانی کی کھال (چمڑے) کے مصارف اور بیچنا
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: August 12, 2026
0
7,197
سوال (Question):
قربانی کی کھال خود بیچی جا سکتی ہے یا مدرسے میں دینا ضروری ہے؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
قربانی کی کھال کو اپنے استعمال میں لانا جائز ہے (جیسے مصلیٰ بنانا)۔ اگر اسے بیچ دیا تو اس کی رقم خود استعمال کرنا حرام ہے، وہ رقم زکوٰۃ کے مستحقین پر صدقہ کرنا واجب ہے۔ عام طور پر یہ کھال مدارس یا فلاحی اداروں کو دے دی جاتی ہے تاکہ وہ مستحقین پر خرچ کریں۔ واللہ اعلم۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat