دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #1896
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
سجدہ سہو واجب نہیں تھا مگر کر لیا تو اس کی نماز کے بارے میں کیا حکم ہے؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
4,060
سوال (Question):
سجدہ سہو واجب نہیں تھا مگر کر لیا تو اس کی نماز کے بارے میں کیا حکم ہے؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
سجدہ سہو واجب نہیں تھا مگر کر لیا تو اس کی نماز کے بارے میں کیا حکم ہے؟
الجوابـــــــــــــــــــــــــ اگر وہ شخص منفرد ہے اور سجدہ سہو واجب نہیں تھا لیکن کیا تو اس کی نماز ہوگئی. اسی طرح اگر امام نے بلا ضرورت سجدہ سہو کیا تو مدرک یعنی وہ مقتدی جو پہلی رکعت سے آخر تک شریک جماعت رہے اور امام سب کی نماز ہو جائے گی اس لئے کہ جب سجدہ سہو واجب نہ ہوا تو اس کی نیت سے سلام پھیرتے ہی نماز تمام ہو جاتی ہے. اور اگر وہ مسبوق ہے یعنی ایسا مقتدی کہ جس کی کچھ رکعت چھوٹ گئی اور امام نے بے جا سجدہ سہو کیا اور اس نے امام کی اتباع کی تو نماز باطل ہوگئی. ملک العلماء حضرت علامہ امام علاء الدین کاسانی رحمہ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ” المسبوق اذا تابع الامام فی سجود السھو ثم تبین انہ لم یکن علی الامام سھو حیث تفسد صلاۃ المسبوق (بدائع الصنائع جلد ١ صفحہ ١٧٥) واللہ تعالی اعلم کتبــــــــــــــہ : مفتی اظہار احمد نظامی الجواب صحیح : مفتی جلال الدین احمد الامجدی
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat