بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1896 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
سجدہ سہو واجب نہیں تھا مگر کر لیا تو اس کی نماز کے بارے میں کیا حکم ہے؟
الجوابـــــــــــــــــــــــــ اگر وہ شخص منفرد ہے اور سجدہ سہو واجب نہیں تھا لیکن کیا تو اس کی نماز ہوگئی. اسی طرح اگر امام نے بلا ضرورت سجدہ سہو کیا تو مدرک یعنی وہ مقتدی جو پہلی رکعت سے آخر تک شریک جماعت رہے اور امام سب کی نماز ہو جائے گی اس لئے کہ جب سجدہ سہو واجب نہ ہوا تو اس کی نیت سے سلام پھیرتے ہی نماز تمام ہو جاتی ہے. اور اگر وہ مسبوق ہے یعنی ایسا مقتدی کہ جس کی کچھ رکعت چھوٹ گئی اور امام نے بے جا سجدہ سہو کیا اور اس نے امام کی اتباع کی تو نماز باطل ہوگئی. ملک العلماء حضرت علامہ امام علاء الدین کاسانی رحمہ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں ” المسبوق اذا تابع الامام فی سجود السھو ثم تبین انہ لم یکن علی الامام سھو حیث تفسد صلاۃ المسبوق (بدائع الصنائع جلد ١ صفحہ ١٧٥) واللہ تعالی اعلم کتبــــــــــــــہ : مفتی اظہار احمد نظامی الجواب صحیح : مفتی جلال الدین احمد الامجدی
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ