بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-59 | تاریخ: 12 اگست 2026
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
شرعاً بیوی کا یہ حق ہے کہ شوہر اسے ایک ایسا کمرہ فراہم کرے جس میں اس کی مرضی کے بغیر کوئی (ساس نند بھی) نہ آ سکے۔ اگر جوائنٹ فیملی میں پردے کا مسئلہ ہو، یا ساس بہو کی نہ بنتی ہو جس سے ازدواجی زندگی خراب ہو رہی ہو، تو بیوی کا الگ رہائش (Separate Accommodation) کا مطالبہ کرنا اس کا شرعی حق ہے اور شوہر پر استطاعت کے مطابق دینا لازم ہے۔ واللہ اعلم۔
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ