بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2259 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
ساس اور سسر کو ماں باپ کہنا کیسا ہے؟
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبراکاتہ تمام علماء کرام مفتیان کرام کی بارگاہ میں سوال عرض یہ ہے کہ ساس اور سسر کو ماں باپ کہہ کے بلانا کیسا تفصیلی و تحریری جواب عطا فرما دیجیے عاشق اعلی حضرت پاکستان وعليـــــــكم الســـــلام ورحمة اللّہ وبرکاتہ الجواب بعون الملک الوھاب ساس اور سسر کو ماں باپ کہہ کر بلا سکتے ہیں اس میں کوئی حرج نہیں۔ جیساکہ حکیم الامت مفتی احمدیار خان علیہ الرحمۃ والرضوان فرماتے ہیں: یاد رکھو کہ دنیا میں انسان کے چار باپ ہوتے ہیں:ایک تو نسبی باپ، دوسرے اپنا سسر، تیسرے اپنا استاد،چوتھے اپنا پیر۔ اگر تم نے اپنے سسر کو بُراکہا تو سمجھ لو کہ اپنے باپ کو برا کہا, حضورﷺ نے فرمایا ہے : کہ بہت کامیاب شخص وہ ہے جس کی بیوی بچے اس سے راضی ہوں . ((اسلامی زندگی، ص,۶۸ ۶۹,مکتبتہ المدینہ، دعوت اسلامی)) واللّٰہ تعالیٰ اعلم بالصواب کتبہ : اسیر حضور تاج الشریعہ محمــــــــد نورجمال رضــوی دینـــاجپـــوری بانئ سنی مسـائل شـرعیـہ گــروپ
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ