لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 12 اگست 2026

ساس اور بہو کے رشتے کی شرعی حیثیت

کیا بہو پر ساس سسر کی خدمت کرنا شرعاً فرض ہے؟

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

شرعاً بہو کے ذمے صرف اپنے شوہر کی اطاعت اور اس کے حقوق ادا کرنا لازم ہے۔ ساس سسر کی خدمت کرنا بہو پر قانوناً یا شرعاً ‘فرض’ نہیں ہے۔ لیکن حسنِ معاشرت، اخلاق، اور شوہر کی خوشنودی کی خاطر ساس سسر کو والدین کا درجہ دے کر ان کی خدمت کرنا عظیم ثواب کا کام ہے۔ اسی طرح ساس سسر کو بھی چاہیے کہ بہو کو بیٹی سمجھیں اور اس پر ظلم یا زیادتی نہ کریں۔ واللہ اعلم۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات