دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #8
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
ساس اور بہو کے رشتے کی شرعی حیثیت
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: August 12, 2026
0
10,180
سوال (Question):
کیا بہو پر ساس سسر کی خدمت کرنا شرعاً فرض ہے؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
شرعاً بہو کے ذمے صرف اپنے شوہر کی اطاعت اور اس کے حقوق ادا کرنا لازم ہے۔ ساس سسر کی خدمت کرنا بہو پر قانوناً یا شرعاً ‘فرض’ نہیں ہے۔ لیکن حسنِ معاشرت، اخلاق، اور شوہر کی خوشنودی کی خاطر ساس سسر کو والدین کا درجہ دے کر ان کی خدمت کرنا عظیم ثواب کا کام ہے۔ اسی طرح ساس سسر کو بھی چاہیے کہ بہو کو بیٹی سمجھیں اور اس پر ظلم یا زیادتی نہ کریں۔ واللہ اعلم۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat