بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1743 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
زکاۃ کی رقم دنیاوی اسکول کی زمین و تعمیر میں خرچ کرنا کیسا ہے؟
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل میں کی کیا بیت المال، صدقہ و زکوۃ کی رقم سے دینی اور دنیاوی تعلیم کے لئے اسکول کی زمین خریدنا درست ہے اور تعمیر اسکول بھی درست ہے؟ الجوابـــــــــــــــــــــ زکاۃ و صدقہ کی رقم کے اصل حقدار فقیر اور مسکین مسلمان ہیں. قرآن پاک میں ہے ” انما الصدقت للفقراء و المساکین” ( پارہ 10 رکوع 14 آیت 60) تو زکوۃ انہیں کو دینے سے ادا ہوگی اور دوسرے کو دینا ناجائز و گناہ ہے اس لئے کسی بھی اسکول میں زکوۃ کی رقم دینا جائز نہیں اور نہ ہی اسکول میں دینے سے زکوۃ ادا ہوگی. دینی مدرسہ میں جو زکات کی اجازت فقہاء کرام نے دی ہے تو وہ ضرورت شرعیہ کے تحت دی ہے. فقہ کا قاعدہ کلیہ ہے ” الضرورات تبیح المحظورات ،الحاجۃ قد تنزل منزلۃ الضرورۃ، المشقۃ تجلب التیسیر” ١ھ. اور اسکول میں ضرورت شرعیہ کیا حاجت شرعیہ بھی نہیں پائی جاتی. لہذا زکوۃ و صدقات کی رقم کسی بھی دنیاوی اسکول میں دینے سے ہرگز ادا نہ ہوگی اور نہ ہی اس سے زمین خریدنا اور اس سے اسکول کی تعمیر کرنا جائز ہے. البتہ بیت المال کی رقم جو زکوۃ صدقہ فطر نیز کسی اور صدقہ واجبہ کی نہ ہو بلکہ چندے اور عطیہ کی رقم ہو جس کا مصرف قومی اور ملی فلاح و بہبود کے کام ہوں تو اس سے اسکول کی زمین خریدنا اور تعمیر کرنا جائز ہے. واللہ تعالی اعلم الجواب صحیح : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور کتبہ : مفتی محمد نیاز برکاتی مصباحی
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ