لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

زانیہ کے ساتھ نکاح درست ہے یا نہیں؟ | ثبوت نسب کے لیے حمل کی مدت کتنی ہے؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

ثبوت نسب کے لیے حمل کی مدت کتنی ہے؟ | زانیہ کے ساتھ نکاح درست ہے یا نہیں؟

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیان شرع عظام مسئلہ ذیل میں کہ زید کا ہندہ سے نکاح ہوا اور نکاح کے دو مہینے بعد ہندہ کا حمل نقصان ہو گیا ڈاکٹروں کی رپورٹ کے مطابق وہ حمل چھ ماہ کا تھا اور زید کا کہنا ہے کہ میرا ہندہ سے پہلے کوئی تعلق نہ تھا میں نے شادی سے ایک سال پہلے صرف اسے دیکھاتھالہذایہ حمل میرا نہیں ہے اور ہندہ اس بات کا اقرار بھی کر رہی ہے کہ یہ حمل زید کا نہیں ہے بلکہ کسی دوسرے کا ہے مجھ سے غلطی ہوئی ہے اب جو بھی حکم شرع ہو۔میں ماننے کے لئے تیار ہوں بعض مولانالوگ کہتے ہیں کہ ایسی صورت میں مذکورہ نکاح فاسد ہو جاۓ گا ۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ (۱) ہندہ کے حمل کا نسب زید سے ثابت ہوگا یا نہیں؟ (۲) مذکورہ نکاح باقی رہے گا یا فاسد ہو جائے گا؟ بینوا وتوجروا المستفتی: سید محمد عارف شاه ابن سید محمد حیدرشاه خطیب وامام جامع مسجد چھڑنگ،تھنہ منڈی ، راجوری، جموں وکشمیر الجواب بعون الملک الوھاب (۱)ثبوت نسب کیلئے حمل کی مدت وقت نکاح سے کم سے کم چھ ماہ ہے اس سے کم میں اگر بچہ پیدا ہوا تو اس کا نسب ثابت نہ ہوگا سوال میں چونکہ یہ بات مذکور ہے کہ شادی کو دو ماہ ہوۓ ہیں اور ہندہ اس بات کا اقراربھی کر رہی ہے کہ یہ حمل زید کا نہیں ہے بلکہ کسی دوسرے کا ہے لہذا مذکورہ تفصیل سے معلوم ہوا کہ ہندہ کا حمل زید سے ثابت نہیں۔ بہار شریعت میں ہے "حمل کی مدت کم سے کم چھ مہینے ہے- وقت نکاح سے چھ مہینے کے اندر بچہ پیدا ہوا تو نسب ثابت نہیں اور چھ مہینے یا زیادہ پر پیدا ہوا تو ثابت ہے جبکہ شوہر اقرار کرے یا سکوت اور اگر کہتا ہے کہ بچہ پیداہی نہ ہوا تو ایک عورت کی گواہی سے ولادت ثابت ہو جائے گی،ملتقطا” ( ج ۲ ح۸ ص ۳۴۸/مكتبة المدينه دعوت اسلامى) (۲) زید کا ہندہ کے ساتھ نکاح صحیح ہے صرف حاملہ ہونے کی صورت میں وضع حمل تک اس سے جماع نا جائز تھا، اگر زید نے جانتے ہوۓ اس دوران اس سے جماع کیا تو زید گنہگار ہوا اپنے گناہ پر ندامت ظاہر کرتے ہوئے اللہ رب العزت کی بارگاہ میں سچے دل سے تو بہ واستغفار کرے لیکن اگر زید کو ہندہ کے حاملہ ہونے کی خبر نہیں تھی اور ہندہ نے اسے بتایا بھی نہیں کہ میں حاملہ ہوں تو اس صورت میں جماع کرنے پر زید پر کوئی گناہ نہیں بلکہ اس کا وبال ہندہ پر ہے اگر اسلامی حکومت ہوتی تو ہندہ کو بطور حد سوکوڑے لگائے جاتے مگر چونکہ آج ہمارے یہاں اسلامی حکومت نہیں ہے اب ہندہ کے لیے حکم شرع یہی ہے کہ وہ اپنے اس جرم پر اللہ رب العزت کی بارگاہ میں تو بہ واستغفار کرے،اگر وہ اپنے گناہ پرتوبہ نہیں کرتی ہے تو مسلمانوں پر لازم ہے کہ جب تک وہ اپنے اس گناہ سے توبہ نہ کرے اسکا بائیکاٹ کریں لیکن اس سے مذکورہ نکاح میں کوئی فساد نہ آۓ گا ، جو لوگ فساد نکاح کے قائل ہیں وہ مستند کتب سے اس پر دلیل پیش کریں۔ فتاوی رضویہ میں در مختار کے حوالے سے ہے "صح نـكـاح حبلى من زنا وان حرم وطؤها حتى تضع لئلا يسقى مائه مزرع غيره "( فتاوی رضویہ ج ۵ ص ۹۳۸) اور امام اہل سنت علیہ الرحمہ رقمطراز ہیں ” یہاں تک کہ جس عورت کوزنا کا حمل ہو غیر زانی کو بھی با وجود حمل اس سے نکاح جائز البتہ از انجا کہ حمل غیر ہے تا وضع حمل جماع نا جائز ہے ” ( فتاوی رضویہ ج ۵ ص۹۳۸ ) والله تعالی اعلم بالصواب کتبه محمدار شاد رضا علیمی غفرلہ پلانگڑ، تھنہ منڈی، راجوری، جموں وکشمیر ۲۸/ ذوالحجہ ۱۴۴۱ھ الجواب صحیح محمد اسلم رضا مصباحی عفی عنہ مرکزی دارالافتاء اہل سنت صوبہ جموں

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات