بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-1699 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
رہنے کے لیے زمین خریدی پھر اسے بیچ دیا تو کیا اس پر زکوۃ واجب ہے?
سوال : ایک شخص نے اپنے رہنے کا مکان بنانے کے لئے زمین خریدی پھر اسے نامناسب قرار دے کر بیچنے کی نیت کی اور مکان بنانے کے لیے دوسری زمین خریدی تو پہلی زمین کی مالیت پر زکوۃ واجب ہوگی یا نہیں ؟ بینوا و توجروا الجوابــــــــــــــــــــ زکوۃ فرض ہونے کے لئے تین قسم کی چیزوں کا ہونا ضروری ہے ثمن یعنی سونا چاندی، مال تجارت، چرائی پر چھوٹے جانور. اس کے علاوہ پر زکوۃ واجب نہیں جیسا کہ اعلی حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رضی اللہ عنہ تحریر فرماتے ہیں زکوٰۃ صرف تین چیزوں پر ہے سونا چاندی کیسےہی ہوں، پہننے کے ہوں یا برتنے کے یا رکھنے کے، سکہ ہو یا پتر یا ورق، دوسرا چرائی پر چھوٹے جانور، تیسرے تجارت کا مال باقی کسی چیز پر نہیں. (فتاوی رضویہ جلد چہارم صفحہ 428) اور اسی طرح بہار شریعت حصہ پنجم صفحہ 18 پر بھی ہے لہذا اس شخص نے جو زمین خریدی وہ ان تینوں قسموں میں سے کسی میں بھی داخل نہیں لہذا اس پہلے زمین کی خریداری پر زکوۃ واجب نہیں. واللہ تعالی اعلم الجواب صحیح : مفتی جلال الدین احمد الامجدی کتبہ : مفتی محمد عبد الحی قادری
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ