لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

رشوت کے طور پر دیا جانے والا تحفے کا حکم  از مفتی محمد نظام الدین قادری

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

رشوت کے طور پر دیا جانے والا تحفے کا حکم

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ سوال ہے کہ زید ہندہ کے ساتھ نوکری کرتا تھا، اس کے ساتھ شادی کے لیے اپنی مرضی کا اظہار کیا ،ہندہ نے رضا مندی ظاہر کی ،نوکری میں ان کی ملاقات ہوتی تھی،زید نے ہندہ کو تحفے اپنے والدین کے ذریعے نہیں بھیجے بلکہ خود ہندہ کو دیے۔کچھ دنوں بعد اپنے والد سے رشتہ کی فون کال بھی کروائی ۔ مگر ہندہ کے والدین نے اس رشتے سے انکار کر دیا ۔اور زید کے والدین کے ساتھ ملاقات بھی نہیں کی ۔وضاحت کرنا چاہوں گی کہ زید کے گھر والوں کی طرف سے تحائف نہیں بھیجے گئے بلکہ باقاعدہ رشتہ بھیجنےHow سے پہلے زید نے خود ہندہ کو تحفے دیے ۔کیا اس صورت حال میں یہ تحائف ھدیہ میں شمار ہونگے یا رشوت میں شمار ہونگے۔اب بہت سال پرانی بات ہے،تحفے ہندہ کے پاس نہیں اور نہ زید کا کچھ پتہ معلوم ہے، کیا تحفوں کی مالیت کے برابر رقم صدقہ کرنا ہندہ پر واجب ہے۔ الجوابــــــــــــــــــــــــ صورتِ مسئولہ میں زید کے دیے گیے ان تحفوں کو رشوت قرار دینا محلّ نظر ہے۔ کیوں کہ ان تحائف کو نکاح پر آمادہ کرنے کے لیے رشوت نہیں کہہ سکتے، اس لیے کہ ان تحائف سے پہلے ہی نکاح پر دونوں کی رضا مندی ہوچکی تھی۔یوں ہی یہ عورت زنا یا غنا وغیرہ ناجائز وحرام کسب والی عورتوں میں بھی نہیں جن کو ان کے آشنا لوگ اس لیے تحائف دیتے ہیں تاکہ ان کو اپنی طرف راغب کرکے ان کے گانے وغیرہ حرام چیزوں سے لطف اٹھائیں۔اس لیے ان تحائف کا رشوت ہونا متعین نہیں ہے۔ لیکن ایک پہلو یہ بھی ہے کہ ہوسکتا ہے کہ زید نے وہ تحفے ہندہ کو لُبھانے اور ناجائز طور پر اپنی طرف راغب کرنے کے لیے دیے ہوں اور اس طرح یہ تحائف "ما یدفعہ المتعاشقان رشوة” میں داخل ہوں۔اور رشوت کے لیے مالِ مغصوب کا حکم ہے کہ اگر وہ مال بعینہ باقی ہو تو واپس کیا جائے اور اگر وہ مال ہلاک ہوگیا ہو تو اگر مثلی ہو جیسے: سونا، چاندی، گیہوں کھجور وغیرہ تو اس کا مثل واپس کیا جائے اور اگر مثلی نہ ہو تو اس کی قیمت واپس کی جائے۔اور اگر واقعی اب دینے والے کا پتہ نشان کچھ معلوم نہ ہو تو اسی کی طرف سے اس کا مثل یا قیمت خیرات کردیا جائے۔ اس لیے ہندہ کے لیے بہتر یہی ہے کہ شبہات سے احتراز کرتے ہوئے اُن تحائف کی مثل یا قیمت دینے والے کو واپس کردے بشرطے کہ اس کا کسی طرح پتہ چل سکے اور اگر اس کا پتہ نہ چل سکے تو دینے والے کی طرف سے کسی فقیر کو خیرات کردے۔اگرچہ وہ فقیر اس عورت کا اپنا کوئی رشتہ دار ماں باپ بیٹا بیٹی ہی کیوں نہ ہو۔ امام اہلِ سنت اعلی حضرت امام احمد رضا قدس سرہ العزیز تحریر فرماتے ہیں: "اسی طرح اُن (یعنی: کسبی عورتوں) کے آشنا جو مال بطور تحفہ وہدیہ ان کے راضی رکھنے یا ان کا دل اپنی طرف مائل کرنے کو دے آتے ہیں اگر چہ اس وقت خالی ملاقات کو جائیں اور زنا یا غنا کچھ مقصود نہ رکھیں اس کابھی یہی حکم ہے کہ وہ رشوت ہے اور رنڈیاں اس کی مالک نہیں ہوجاتیں اس کا واپس دینا بھی واجب ہے۔فی الحاشیۃ الطحطاویۃ علی الدرالمختار آثرا عن القنیۃ مقرا علیہ، ما یدفعہ المتعاشقان رشوۃ یجب ردہ ولا تملک۔” (فتاوی رضویہ ج ٩ نصف اول ص ٧) نیز تحریر فرماتے ہیں: "اور ماں ہونا اس صدقہ واجبہ کے منافی نہیں کہ یہ صدقہ خود اُس کے اپنے مال کانہیں،کما علم بل اموال ضوائع لایعرف اربابھا فیحل لھا التصدق بھا علی ابیھا وابنھا وامھا وبنتھا۔ وفی الھندیۃ عن القنیۃ لہ مال فیہ شبھۃ اذا تصدق بہ علی ابیہ یکفیہ ذٰلک، ولایشترط التصدق علی الاجنبی وکذا اذا کان ابنہ معہ حین کان یبیع ویشتری وفیھا بیوع فاسدۃ فوھب جمیع مالہ لابنہ ھذا خرج من العھدۃ ۱ھ ۔ اقول : فاذا کان ھذا فیما قد ملکہ ملکا ففیما لم یملکہ اظھر و اولٰی۔” (فتاوی رضویہ جدید ج٢٣ ص۵۴٣) علامہ علاو الدین حصکفی رحمہ اللہ تعالی تحریر فرماتے ہیں: "وَإِنْ لَمْ يَجِدْ الْمَدْيُونُ وَلَا وَارِثُهُ صَاحِبَ الدَّيْنِ وَلَا وَارِثَهُ فَتَصَدَّقَ الْمَدْيُونُ أَوْ وَارِثُهُ عَنْ صَاحِبِ الدَّيْنِ بَرِئَ فِي الْآخِرَةِ۔” (در مختار، کتاب اللقطہ) ھذا ما ظھر لی واللہ سبحانہ و تعالی اعلم کتبہ: محمد نظام الدین قادری، خادم درس و افتاء دارالعلوم علیمیہ جمدا شاہی، بستی۔ یوپی۔ ١٢/رمضان المبارک ١۴۴٣ھ// ١۴/اپریل ٢٠٢٢ء

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات