دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #1276
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
دیوبندی و وہابی کا صف میں گھسنا کیسا ہے؟
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
11,864
سوال (Question):
دیوبندی و وہابی کا صف میں گھسنا کیسا ہے؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
دیوبندی و وہابی کا صف میں گھسنا کیسا ہے؟
اگر دیوبندی صف میں کھڑا ہو تو اس سے نماز میں کوئی خلل واقع ہوگی یا نہیں جواب عنایت فرمائیں عین نوازش ہوگی۔؟ المستفتی محمد شاہ رخ رضا قادری ضلع رامپور یوپی سوار الجوابـــــــــــــــ بعون الملک الوہاب جی ہاں بالکل خلل واقع ہوگا سنیوں کو لازم ہے کہ اپنی مساجد میں اعلان کر دیں کہ کوئی غیر مذہب ہماری صفوں میں نہ گھسے ۔ جیساکہ فقیہ ملت حضرت علامہ مفتی محمد جلال الدین احمد امجدی قدس سرہ تحریر فرماتے ہیں وہابی دیوبندی اپنے کفریہ قطعیہ کی بنا پربمطابق حسام الحرمین مسلمان نہیں ، ان کی نماز شرعا نماز نہیں لہذا دیوبندی وہابی کھڑے ہوں گے تو یقینا صف منقطع ہوگی اور انقطاع صف ناجاٸز ہے توایسی صورت میں ضرور خلل واقع ہوگا لہذا وہاں کے سنیوں پر لازم ہے کہ وہ اپنی مسجدوں میں اعلان کر دیں کہ کوئی وہابی دیوبندی ہماری صفوں میں نہ گھسےبلکہ مسجدوں میں نہ آنےدیں کہ وہ موذی ہے اور ہر موذی کو مسجد میں آنے سے روکنا لازم ہے ،درمختار میں ہے ، (یمنع منه کل موذ ولوبلسانه ملخصاً) یعنی ایذا دینے والے کو مسجد میں آنے سے روکا جائے اگرچہ وہ صرف زبان ہی سے ایذا دیتا ہو، تو اللہﷻ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دینے والوں سے بڑھ کر موذی کون ہوگا لہذا ان کو مسجد میں آنے سے روکا جائے اور آجائیں تو باہر کر دیا جائے اور اگر باہر کرنے میں فتنہ ہوگا اور سنی فتنہ کا مقابلہ کرسکتے ہیں تو اس صورت میں بھی ان کو باہر کرنا لازم ہے ہاں اگر فتنہ کا مقابلہ نہیں کرسکتے تو باہر کرنا لازم نہیں لیکن اگر فتنہ کا بہانہ ہے اور سستی و غفلت و لاپرواہی ہے تو وہابی دیوبندی سنیوں کی مسجد میں آتے ہیں اور صفوں میں گھستےہیں وہ اس محلہ کے سب سنی گناہگار ہوں گے۔ (فتاوی فیض الرسول،جلد اول صفحہ٣٤٥،مکتبہ شبیر برادرز)) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب کتبــــــــہ :محمّـد عبیـداللہ حنفی رضوی بریلوی مؤرخہ:(۱۳) جمادی الاول ١٤٤١ھ بروز؛منگل
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat