لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

دھوپ کے گرم پانی سے وضو اور غسل کرنا کیسا ہے؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

دھوپ کے گرم پانی سے وضو اور غسل کرنا کیسا ہے؟

الجوابـــــــــــــــــــــ جو پانی دھوپ سے گرم ہو جائے اس سے وضو اور غسل کرنا منع ہے اس لئے کہ اس سے برص یعنی سفید داغ ہونے کا اندیشہ ہے. حدیث شریف میں ہے ” عن عائشۃ رضی اللہ عنھا قالت اسخنت ماء فی الشمس فقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم لا تفعلی حمیراء فانہ یورث البرص ” یعنی حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دھوپ سے پانی گرم کیا تو آپ نے فرمایا اے حمیراء آئندہ ایسا نہ کرنا کہ اس سے برص پیدا ہوتا ہے. اور دوسری حدیث میں ہے ” قال عمر رضی اللہ عنہ لاتغسلوا بالماء الشمس فانہ یورث البرص ” یعنی حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ دھوپ سے گرم شدہ پانی سے غسل نہ کرو کہ اس سے برص پیدا ہوتا ہے (بیہقی شریف جلد اول صفحہ نمبر 10) اور اعلی حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رضی اللہ تعالی عنہ تحریر فرماتے ہیں کہ دھوپ کے گرم پانی سے مطلقاً وضو صحیح ہے مگر گرم ملک گرم موسم میں جو پانی سونے چاندی کے سوا کسی اور دھات کے برتن میں دھوپ سے گرم ہو جائے وہ جب تک ٹھنڈا نہ ہو لے بدن کو کسی طرح پہنچانا نہ چاہئے وضو سے نہ غسل سے نہ پینے سے معاذاللہ احتمال برص ہے. فتاوی رضویہ جلد 26 صفحہ 412 اور ایسا ہی بہار شریعت حصہ دوم صفحہ 49 پر بھی ہے. واللہ تعالی اعلم ۔ کتبہ : مفتی محمد ہارون رشید قادری کولمبوی گجراتی الجواب صحیح : مفتی جلال الدین احمد الامجدی

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات