بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
دار الافتاء اہلسنت - مسائل ورلڈ
مستند فقہی فتاویٰ و شرعی تحقیقات | مصدقہ فتویٰ نمبر: MW-2286 | تاریخ: 18 ستمبر 2025
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب
دھنسی ہوئی قبر پر مٹی کیسے ڈالیں؟
سوال : ہمارے یہاں ایک رواج یہ بن گیا ہے کہ لوگ شعبان کے مہینے میں دھنسی ہوئی سبھی قبروں پر مٹی چڑھا کر اونچی اور نئی کرلیتے ہیں ، آیا یہ سنت ہے یا بدعت؟ شریعت مطہرہ کا اس سلسلے میں کیا حکم ہے؟ الجوابــــــــــــــــــــــــــــــ میت پر مٹی ڈال کر دبانا جائز نہیں ۔ زمین کی سطح پر پہلے بانس ، لکڑی کے تختے اور اوپر سے چٹائی وغیرہ کوئی چیز بچھا کر مٹی ڈالیں تاکہ میت کی بے حرمتی نہ ہو اور قبروں کا نشان محفوظ رہے ، یہ جائز ہے کہ اس میں احترام مسلم ہے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ کتبــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارک پور
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ
تصدیق شدہ