لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

دکان کے سامان پر زکاۃ واجب ہے؟

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

دکان کے سامان پر زکاۃ واجب ہے؟

مفتی محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔ دکان میں فروخت کرنے کا جو سامان موجود ہے کیا اس پر بھی زکوۃ ہے نيز زید نے قرض لیکر دکان کا سامان خریدا کیا اس پر زکوٰۃ ہے؟ المستفتی عادل رضا قادری آنولہ بریلی شریف یوپی انڈیا۔ الجواب بعون الملک الوھاب صورت مستفسرہ میں دکان کے سامان پر زکاۃ واجب ہے جبکہ قرض نکالنے پر اس کی قیمت نصاب کو پہنچتی ہو اور اس پر سال گزر چکا ہو۔ اعلی حضرت رضی ﷲ تعالیٰ عنہ تحریر فرماتے ہیں: ” مالِ تجارت جب تک خود یا دوسرے مالِ زکوٰۃ سے مل کر قدرِ نصاب اور حاجتِ اصلیہ مثل دین وغیرہ سے فاضل رہے گا ہر سال اس پر زکوٰۃ واجب ہوگی” اھ (فتاوی رضویہ مترجم, ج١٠, ص١٥٩, کتاب الزکاۃ, مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور) بہار شریعت میں ہے: ” نصاب کا مالک ہے مگر اس پر دین ہے کہ ادا کرنے کے بعد نصاب نہیں رہتی تو زکاۃ واجب نہیں ” اھ (حصہ٥, ص٨٧٨, زکاۃ کا بیان , مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی) واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ کتبہ :گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی فیضی میرانی۔ خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔٢٠ رمضان المبارک ١٤٤٣ھ مطابق ٢٢اپریل ٢٠٢٢ھ

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات