صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

دارالافتاء
اہل سنت

MASAIL WORLD

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat

www.masailworld.com

مسائل ورلڈ

دارالافتاء اہل سنت

Fatwa #2491 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

دکان و مکان اور سامانوں کا انشورنس کرانا کیسا ہے؟

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat تاریخ: September 18, 2025
0 12,774

سوال (Question):

دکان و مکان اور سامانوں کا انشورنس کرانا کیسا ہے؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

فسادات کے ڈر سے جان، دکان و مکان اور سامانوں کا انشورنس کرانا کیسا ہے؟

الجوابــــــــــــــــــــــــــــ یہاں دو چیزیں ہیں ۔
  • لائف انشورنس
  • جنرل انشورنس
لائف انشورنس یعنی ایل آی سی یہ کبھی جائز ہوتا ہے اور کبھی ناجائز، اس کی تفصیل یہ ہے کہ جس کے نام سے انشورنس ہو رہا ہے اس کو اپنی آمدنی اور دولت پر پورا اعتماد ہو کہ وہ کم از کم تین سالوں کی پوری قسطیں ادا کر دے گا اس کی ایک قسط بھی ناغہ نہ ہوگی تو ایسے شخص کو لائف انشورنس کرانا جائز ہے ۔ اور اگر کسی کو قرائن کی بنا پر شبہ ہو کہ اس کی مالی حالت خراب ہو سکتی ہے اور اس کی ایک قسط بھی ناغہ ہو سکتی ہے تو ایسے شخص کو لائف انشورنس کرانا ناجائز ہے ۔ تین سال کی قید اس لئے ہے کہ لائف انشورنس کمپنی کا قانون یہ ہے کہ تین سال تک کی سب قسطیں جمع ہونا ضروری ہے، ایک قسط بھی ناغہ ہوگئی تو جمع شدہ سارا مال کمپنی ضبط کرلے گی ۔ لیکن اگر کبھی یہ قانون بدل کر تین سال کے بجائے ایک سال یا کم و بیش ہو جائے تو جواز کا حکم ایک سال یا کم و بیش سے مشروط ہو گا، اور اگر فرض کیجئے کہ کبھی قانون ہی ختم کر دیا جائے تو پھر سرے سے یہ شرط ہی نہ رہے گی ۔
  • جنرل انشورنس کرانا ناجائز ہے مگر جن علاقوں میں فسادات وغیرہ زیادہ ہوتے ہیں وہاں پر دکان و مکان اور سامانوں کا
انشورنس کرا سکتے ہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۔ کتبــــــــــــــــــــہ : مفتی نظام الدین رضوی جامعہ اشرفیہ مبارکپور

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat