لوگو
مسائل ورلڈ دار الافتاء اہلسنت
اہم مینو و صفحات
دار الافتاء اہلسنت (مرکز، بھارت)
جامعہ قادریہ علیمیہ، تلوجہ فیز 1، نوی ممبئی، مہاراشٹر، بھارت
بین الاقوامی آن لائن شرعی خدمات
azharalimi95@gmail.com
مسائل ورلڈ - دار الافتاء اہلسنت | masailworld.com
استفتاء / سائل کا سوال
فتویٰ مصدقہ دار الافتاء 18 ستمبر 2025

دو بیٹے چار بیٹیاں اور بیوی کے درمیان ترکہ تیس لاکھ کیسے تقسیم ہوگا۔

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ شرعی رہنمائی فرمائیں۔

الجواب بعون الملک الوھاب
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق والصواب

دو بیٹے چار بیٹیاں اور بیوی کے درمیان ترکہ تیس لاکھ کیسے تقسیم ہوگا۔

مفتیان کرام کی بارگاہ میں سوال یہ ہے کہ مرحوم کے دو بیٹے چار بیٹیاں اور بیوی بھی ہے جائیدا میں کل تیس لاکھ روپئے ہیں تو اس میں سے کس کو کتنا حصہ ملے گا قرآن و حدیث کے مطابق جواب عنایت فرمائیں نوازش ہوگی محمد ارشاد برکاتی کُشی نگر یوپی بسم ﷲ الرحمن الرحیم الجواب-بعون الملک الوھاب صورت مستفسرہ میں بعد تقدیم ماتقدم وعدم موانع ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین میت کے کل ترکہ کو ٦٤ حصوں میں تقسیم کریں گے پھر اس میں سے ٨ حصے میت کی بیوی کو دیں گے اور ہر بیٹی کو سات سات حصے اور ہر بیٹے کو چودہ چودہ حصے دیں گے۔ یعنی اگر کل ترکہ یہی تیس لاکھ روپیہ ہے تو اس میں سے میت کی بیوی کو (٣٧٥٠٠٠) تین لاکھ پچہتر ہزار روپے اور ہر بیٹی کو (٣٢٨١٢٥) تین لاکھ اٹھائیس ہزار ایک سو پچیس روپے اور ہر بیٹے کو (٦٥٦٢٥٠) چھ لاکھ چھپن ہزار دوسو پچاس روپے ملیں گے۔ کہ فرمان باری تعالی ہے:” یُوۡصِیۡکُمُ اللّٰہُ فِیۡۤ اَوۡلَادِکُمۡ ٭ لِلذَّکَرِ مِثۡلُ حَظِّ الۡاُنۡثَیَیۡنِ ” اھ (سورۃ النساء آیت ١١) ترجمہ: "اللہ تمہیں حکم دیتا ہے تمہاری اولاد کے بارے میں بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے ” (کنزالایمان) نیز ارشاد فرمایا: "فَإِن كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ ٱلثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم ” اھ (سورۃ النساء آیت ١٢) یعنی اگر تمہارے اولاد ہو تو تمہارے ترکہ میں سے تمہاری بیویوں کا آٹھواں حصہ ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ کتبہ: گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی میرانی فیضی۔ خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
مفتی و محقق، دار الافتاء مسائل ورلڈ
دار الافتاء مصدقہ فتویٰ تصدیق شدہ
ٹیگز:

متعلقہ شرعی فتاویٰ و سوالات