دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #1464
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
دو بیٹے چار بیٹیاں اور بیوی کے درمیان ترکہ تیس لاکھ کیسے تقسیم ہوگا۔
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: September 18, 2025
0
13,986
سوال (Question):
دو بیٹے چار بیٹیاں اور بیوی کے درمیان ترکہ تیس لاکھ کیسے تقسیم ہوگا۔
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
دو بیٹے چار بیٹیاں اور بیوی کے درمیان ترکہ تیس لاکھ کیسے تقسیم ہوگا۔
مفتیان کرام کی بارگاہ میں سوال یہ ہے کہ مرحوم کے دو بیٹے چار بیٹیاں اور بیوی بھی ہے جائیدا میں کل تیس لاکھ روپئے ہیں تو اس میں سے کس کو کتنا حصہ ملے گا قرآن و حدیث کے مطابق جواب عنایت فرمائیں نوازش ہوگی محمد ارشاد برکاتی کُشی نگر یوپی بسم ﷲ الرحمن الرحیم الجواب-بعون الملک الوھاب صورت مستفسرہ میں بعد تقدیم ماتقدم وعدم موانع ارث وانحصار ورثہ فی المذکورین میت کے کل ترکہ کو ٦٤ حصوں میں تقسیم کریں گے پھر اس میں سے ٨ حصے میت کی بیوی کو دیں گے اور ہر بیٹی کو سات سات حصے اور ہر بیٹے کو چودہ چودہ حصے دیں گے۔ یعنی اگر کل ترکہ یہی تیس لاکھ روپیہ ہے تو اس میں سے میت کی بیوی کو (٣٧٥٠٠٠) تین لاکھ پچہتر ہزار روپے اور ہر بیٹی کو (٣٢٨١٢٥) تین لاکھ اٹھائیس ہزار ایک سو پچیس روپے اور ہر بیٹے کو (٦٥٦٢٥٠) چھ لاکھ چھپن ہزار دوسو پچاس روپے ملیں گے۔ کہ فرمان باری تعالی ہے:” یُوۡصِیۡکُمُ اللّٰہُ فِیۡۤ اَوۡلَادِکُمۡ ٭ لِلذَّکَرِ مِثۡلُ حَظِّ الۡاُنۡثَیَیۡنِ ” اھ (سورۃ النساء آیت ١١) ترجمہ: “اللہ تمہیں حکم دیتا ہے تمہاری اولاد کے بارے میں بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے ” (کنزالایمان) نیز ارشاد فرمایا: “فَإِن كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ ٱلثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم ” اھ (سورۃ النساء آیت ١٢) یعنی اگر تمہارے اولاد ہو تو تمہارے ترکہ میں سے تمہاری بیویوں کا آٹھواں حصہ ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔ کتبہ: گدائے حضور رئیس ملت محمد صدام حسین برکاتی میرانی فیضی۔ خادم میرانی دار الافتاء جامعہ فیضان اشرف رئیس العلوم اشرف نگر کھمبات شریف گجرات انڈیا۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat