دارالافتاء
اہل سنت
اہل سنت
MASAIL WORLD
Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
www.masailworld.com
مسائل ورلڈ
دارالافتاء اہل سنت
Fatwa #521
تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)
غصے میں بیوی کو “تم میری ماں یا بہن ہو” کہنا (ظہار)
سائل (Questioner): Questioner
دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat
تاریخ: August 12, 2026
0
5,249
سوال (Question):
غصے میں شوہر نے بیوی کو کہہ دیا کہ 'تو آج سے میرے لیے میری ماں یا بہن جیسی ہے'، اس کا کیا حکم ہے؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):
شریعت میں اسے ‘ظہار’ کہا جاتا ہے۔ اگر شوہر بیوی کو اپنی کسی محرم عورت (ماں، بہن، بیٹی) کے اعضاء سے تشبیہ دے کر کہے کہ ‘تو مجھ پر میری ماں کی طرح حرام ہے’، تو بیوی اس پر حرام ہو جاتی ہے اور جب تک ‘کفارۂ ظہار’ ادا نہ کرے، بیوی کے پاس جانا حرام ہے۔ اس کا کفارہ مسلسل 60 روزے رکھنا، یا 60 مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے۔ اس سے طلاق واقع نہیں ہوتی مگر کفارہ لازم ہے۔ واللہ اعلم۔
دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ)
تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat