صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ

Masail World Portal

Masail World Darul Ifta
Home Fatawa Archive Fatawa Categories Topic Directory Research Articles Islamic Books About Us
Ask Question Online

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat Portal

دارالافتاء
اہل سنت

MASAIL WORLD

Darul Ifta Ahl-e-Sunnat

www.masailworld.com

مسائل ورلڈ

دارالافتاء اہل سنت

Fatwa #517 تصدیق شدہ فتویٰ (Verified)

سونے اور چاندی کے نصاب میں فرق

سائل (Questioner): دارالافتاء / مفتی: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat تاریخ: August 12, 2026
0 6,583

سوال (Question):

اگر کسی کے پاس تھوڑا سا سونا ہو تو کیا اس پر زکوٰۃ فرض ہوگی؟

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ

الجواب و الشرعی حکم (Fatwa Answer):

اگر کسی کے پاس صرف سونا ہو (اور کچھ بھی کیش یا چاندی نہ ہو) تو زکوٰۃ اس وقت فرض ہوگی جب سونا ساڑھے سات تولہ (87.48 گرام) ہو۔ لیکن اگر سونے کے ساتھ تھوڑی سی بھی نقدی (Cash) یا چاندی موجود ہو، تو پھر ساڑھے سات تولہ کی شرط ختم ہو جائے گی اور کل مالیت کو چاندی کے نصاب (ساڑھے باون تولہ یعنی 612.36 گرام کی مالیت) سے جانچا جائے گا۔ چاندی کے نصاب کے برابر مالیت بنتے ہی 2.5٪ زکوٰۃ فرض ہو گی۔ واللہ اعلم۔

دارالافتاء اہل سنت (مسائل ورلڈ) تصدیق و تدوین: Darul Ifta Ahl-e-Sunnat